اسلام آباد سے جنیوا تک، پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی

 اسلام آباد سے جنیوا تک، پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی

پاکستان کو چین، سعودی عرب، قطر کی تائید و حمایت حاصل رہی

(تجزیہ:سلمان غنی)

بالآخر پاکستان کی سفارتی و ثالثی کاوشیں نتیجہ خیزثابت ہوئیں اور امریکاو ایران میں آئندہ جمعہ کو جنیوا میں باقاعدہ ایک تقریب میں معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں جس کی میزبانی پاکستان کرے گا ،تقریب کی تیاریوں کیلئے حکومت پاکستان نے تیاریاں شروع کر دیں ، کوشش کی جا رہی ہے تقریب میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ سمیت دوست ممالک کے قائدین کی شرکت یقینی ہو ۔ لہٰذا ممکنہ معاہدے کی نتیجہ خیزی میں پاکستان کے کردار اورمعاہدے کے عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور کیا وجہ ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم پر دستخطوں کیلئے جینوا کاہی انتخاب کیا گیا۔ جہاں تک پاکستان کے کردار کا سوال ہے تو یہ پاکستان تھا جس نے فریقین میں مذاکراتی عمل کا آغاز کرایا اور امریکا، ایران لیڈرشپ کے درمیان اسلام آباد میں منعقدہ بیٹھک کو عالمی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت کے طور پر لیا گیا ،پاکستان کے اس کردارکو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اورپاکستان کو پس پردہ چین، سعودی عرب اور قطر کی  تائید و حمایت حاصل رہی،پاکستان کی سفارتکاری رنگ لے آئی اور دنیا ایک اور عالمی جنگ سے بچ گئی۔ ایرا ن نے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کرتے خود تسلیم کیا کہ یہ سارا عمل پاکستان کے ذریعہ آگے بڑھا اور فریقین کسی حتمی نتیجہ پر پہنچے۔

اب جمعہ کے روز جنیوا میں معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کی میزبانی وزیراعظم شہباز شریف کریں گے لیکن یہاں بھی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مرکز نگاہ ہوں گے ۔تاہم اب بھی ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ معاہدے پر اثرانداز ہوسکتا ہے ، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنی بڑی سطح پر امن عمل کیلئے کاوشیں ہوئیں اس صورتحال میں اس کی خلاف ورزی اس پر اثرانداز ہونے والوں کو جوابدہ بھی بنائے گی اور اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ پاکستان کا کردار متوقع معاہدے سے ختم نہیں ہوگابلکہ اس کی ثالثی کی نتیجہ خیزی کا امتحان آنے والے 60 روز میں ہوگا۔ دوسری جانب مغربی میڈیا بھی پاکستان کے ثالثی کردار کا اعتراف کرتے کہہ رہا ہے کہ اب دنیا پاکستان کو امن کے محافظ اور بڑے عملی ثالث کے طورپر دیکھے گی جس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ۔ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد میمورنڈم صرف امریکا، ایران جنگ کے خاتمہ کا باعث نہیں بنا بلکہ عالمی امن کے قیام اور اہم ایشوز پر ڈائیلاگ کے عمل کو آزما نے اور آگے بڑھانے کا ذریعہ بھی بنے گا ۔ جہاں تک اسلام آباد کی بجائے جنیوا میں منعقدہ تقریب کے انعقاد کا تعلق ہے تو دوست ممالک کے کہنے پر پاکستان نے اسلام آباد کی بجائے جنیوا کو ترجیح دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں