خلع کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا حق حاصل :سپریم کورٹ
خاتون کی دوسری شادی چیلنج کرنا ہراسانی قرار ، اپیل مسترد ، 5 لاکھ روپے جرمانہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے مقدمات 60 روزمیں نمٹائے جائیں:گائیڈ لائنز جاری
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، اے پی پی)سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کے جلد تصفیے کیلئے گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلہ تحریر کیا جس میں عدالتوں کو غیر قانونی بے دخلی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، فیصلے کی نقل تمام ہائیکورٹس کو ارسال کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت دائر مقدمات کو 60 دن کے اندر نمٹایا جائے اور ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔اگر مقدمے میں تاخیر ناگزیر ہو تو معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانا لازمی ہو گا،گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی التوا کی درخواست ازخود تاخیر کی معقول وجہ تصور نہیں کی جا سکتی،کسی عبوری حکم کو چیلنج کرنے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا اور حکم امتناع کے بغیر کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے خلع کے بعد عدالتی طور پر ختم ہونے والے نکاح کو دوبارہ متنازعہ بنانے اور خاتون کی دوسری شادی چیلنج کرنے کیلئے فوجداری و سول کارروائی کا مسلسل استعمال قانون کا غلط استعمال اور ہراسانی قرار دیتے ہوئے سابق شوہر کی اپیل مسترد کر دی ۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خلع کے بعد عدت کی تکمیل کے ساتھ نکاح ختم ہو جاتا اور اس کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل قانونی حق حاصل ہوتا ہے جبکہ ایسے معاملات میں بلاجواز قانونی کارروائی کا استعمال عدالت کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے ،تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سی پی ایل اے نمبر 303-پی/2018 میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جو 30 دن میں خاتون کو ادا کرنا ہو گا۔