امریکا، ایران ڈیل پر دستخط : شہباز شریف کا دورہ سوئڑز لینڈ منسوخ
ٹرمپ ، پزشکیان کے بھی الیکٹرانک دستخط ، شہباز شریف کی بطور ثالث توثیق،تقریب نہیں ہوگی، برگن سٹاک میں آج سے تکنیکی سطح کے مذاکرات،امریکی فوج کا ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان یہ طاقتور ایران کا پیغام:ایرانی صدر،معاہدہ امن و استحکام کی بنیاد:شہبازشریف،چین ،نیٹوکا خیر مقدم،شرائط پر عمل نہ کیا تو دوبارہ ناکہ بندی کرینگے :امریکی وزیر دفاع ،3سعودی جہاز ہرمز سے گزرگئے
اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(نامہ نگار،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کردئیے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کئے ۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ الیکٹرانک دستخط کیے جانے کے بعد برگن سٹاک میں تقریب منسوخ کر دی گئی ہے ،جس کے سبب وزیر اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزر لینڈ ملتوی کر دیا گیاہے، ورنہ وزیراعظم نے آج روانہ ہونا تھا۔سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل آئندہ 60 روز تک جاری رہے گا اور اس دوران پاکستان ثالثی کے عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی موجودگی میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر خود ذاتی طور پر دستخط کیے۔
ٹرمپ نے دستخط کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کئی کامیابیوں کی فہرست پیش کی جنہیں وہ بظاہر اس معاہدے سے جوڑتے ہیں،انہوں نے کہا تیل کی ترسیل جاری ہے اور ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،(دنیا محفوظ رہے گی!)، سٹاک مارکیٹیں زبردست کارکردگی دکھا رہی ہیں، روزگار ریکارڈ سطح پر ہے اور قیمتیں کم ہو رہی ہیں (خریداری کی استطاعت بہتر ہو رہی ہے !)۔انہوں نے مزید لکھا کہ ہمارا ملک مضبوط، محفوظ اور پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ احترام ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کرنے کے بعد امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی دستاویزقرار دیا۔انہوں نے کہا یہ ایک طاقتور ایران کا پیغام ہے ،قیام امن باہمی احترام کے سائے میں ہو گا،ایران اپنی عزت اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ عالمی امن کیلئے پرعزم اور ثابت قدم رہا ہے اور ترقی و علاقائی تعاون کیلئے بھی اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یادداشت پر دستخط کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کال کی، دونوں رہنماؤں میں 30 منٹ تک بات چیت ہوئی۔شہباز شریف نے ایرانی صدر اور عوام کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی مبارکباد پیش کی اور کہا یہ تاریخی معاہدہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی قوم کی تعمیرنو اور پاکستان و ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گا، وزیراعظم نے امن معاہدے پر دستخط کے ایرانی فیصلے کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کیلئے ایرانی قیادت کی کامیابی کی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہر شعبے میں ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ انکی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور کلیدی کردار اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کے فروغ میں نہایت اہم ثابت ہوئے ۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی مفاہمت، احترامِ اور مشترکہ خوشحالی کیلئے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو۔دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ اور علاقائی امور میں موجودہ بہترین تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا،ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔بطور ثالث امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی توثیق کرتا ہوں۔آج 19جون کو سوئٹزر لینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات سوئٹزر لینڈ کے برگن سٹاک ریزورٹ میں ہوں گے جہاں امریکی اور ایرانی نمائندے ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان ، قطر ودیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کا ایک نیا دور ابھی زیرِ غور ہے ۔آنے والے گھنٹوں میں سفارتی ذرائع اور ثالثی کی کوششوں کے ذریعے بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے ۔انہوں نے کہا لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل موجودگی جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،اگر اسرائیل نے لبنان پر قبضہ جاری رکھا تو ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کے سپیکر باقر قالیباف نے ایک انٹرویو میں کہا ہم جو کچھ فوجی کارروائی سے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس سے کئی گنا زیادہ ہم نے مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا، اس کا کوئی موازنہ نہیں،ہر جنگ میں کچھ کامیابیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ کامیابیاں آخر کار کسی قانونی اور سیاسی دستاویز میں تبدیل نہ ہوں اور درج نہ کی جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، نہ تاریخ میں اور نہ ہی میدان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو ثابت کرنے میں۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا اطالوی ہم منصب انتونیو تاجانی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ،دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں استحکام اور سلامتی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ معاہدہ امن کو مستحکم کرنے کیلئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا اور اس کے عوام کی فتح ہے ،ٹرمپ نے ایران کو کمزور کرکے ان کا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔
ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری کررہا ہے ،ایران نے 2دنوں سے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا،گزشتہ رات بحری جہاز سوا کروڑ بیرل تیل لیکر آبنائے ہرمز سے گزرے ۔ ایران کی کارکردگی دیکھتے ہوئے پابندیوں میں نرمی ہوتی جائے گی، معاشی ریلیف کا انحصار ایران کے اپنے رویے پر ہے ، ایران کے رویے کو دیکھتے ہوئے ان کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا اگر ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکاایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ بعض یورپی ممالک مزید کردار ادا کرنے اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال رکھنے میں مدد دینے کیلئے تیار ہیں۔
تاہم انہوں نے براہِ راست برطانیہ سے کہا کہ وہ مزید آگے بڑھے ، اور مزید کوشش کرے اور اخراجات بڑھائے ۔انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اگر امریکا کو برطانیہ اور ڈیاگو گارشیا میں فوجی اڈوں تک رسائی درکار ہو تو برطانیہ کو اس کی مدد کرنی چاہیے ۔ڈیاگو گارشیا بحرِ ہند میں واقع چاگوس جزائر کا حصہ ہے جہاں امریکا اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈا موجود ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ٹرمپ کی مخالفت کے باعث ان جزائر کو ماریشس کے حوالے کرنے کے منصوبے کو موخر کر دیا تھا۔ امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے ،تاہم امریکی جنگی جہاز علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے ۔
ادھر پاک ایران معاہدے کے بعد تین سعودی پرچم بردار سپر ٹینکرز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ ٹینکر تنازع کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغربی خلیج میں لنگر انداز تھے ۔ چین نے مشرق وسطٰی کی جنگ کے خاتمے کیلئے ایران امریکا مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنا تعاون جاری رکھیں۔نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے امریکا ایران معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ جہازرانی کی بحالی ایک بہت بڑا قدم ہو گا اور میں جانتا ہوں کہ فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں اس اقدام کے ذریعے کئی اتحادی اس کی حمایت کیلئے تیار ہیں۔