اسرائیل، حزب اللہ میں جھڑپیں، 3 لبنانی جاں بحق : اسرائیل کے لوگو جاگو، دنیا میں تمہارا واحد ہمدرد ٹرمپ : وینس، تنقید کرنیوالے بیوقوف : امریکی صدر
اسرائیلی فوج کے نقشے میں لبنان کا 10کلومیٹر علاقہ ، ریگن قبر میں تڑپ رہا ہو گا ،ایران کو "پیسوں کے بھرے ہوئے کنستر"نہ دیں: ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے رہنما معاہدے کیخلاف بول اٹھے 90لاکھ کی آبادی والا اسرائیل ہر مسئلہ مار دھاڑ سے حل نہ کرے ،تمہارے لیے ہتھیار امریکی ہاتھوں نے بنائے :امریکی نائب صدر ، اختلاف کے باوجود معاہدے کی اجازت دی :مجتبیٰ خامنہ ای
تل ابیب (نیوز مانیٹرنگ )معاہدے پر دستخط کے محض چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شدید زمینی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملوں میں ایک کار اور قریبی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 3 لبنانی جاں بحق ہو گئے ، جبکہ دوسری طرف بدھ کی رات حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں 1 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 7 زخمی ہوئے ۔ دوسر ی جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنا آپریشن روکنے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔ اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گی اور نام نہاد سکیورٹی زون سے باہر بھی خطرات کو نشانہ بنائے گی۔اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے ،جس میں اس نے لبنان کی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر (6 میل) تک کے علاقے کو اپنا سکیورٹی زون قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے دستے مستقل طور پر اس سکیورٹی زون میں تعینات رہیں گے تاکہ اسرائیل کے شمالی شہریوں کے دفاع کو مضبوط اور کسی بھی قسم کے خطرے کا سدِباب کیا جا سکے ۔ مزید براں ٹرمپ کی اپنی پارٹی ریپبلکن کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی بڑی فتح کے دعوؤں سے بہت دور ہے اور اس کے نتیجے میں تہران مزید امیر، مضبوط اور خطے کیلئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر سکتا ہے ۔سینیٹر بل کیسیڈی نے 'ایکس'پر لکھا کہ سابق صدر رونالڈ ریگن اس معاہدے پر اپنی قبر میں تڑپ رہے ہوں گے ۔ انہوں نے اسے دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی تھی، ایران پابندیوں تلے دبا ہوا تھا اور ہمارے 13 فوجی زندہ تھے ۔ اب ہمارے 13 امریکی مارے جا چکے ہیں، عوام نے پٹرول پمپوں پر اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا، ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں اور بمباری روک دی گئی ہے۔
سینیٹر ٹیڈ کروز نے صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا کہ وہ ایران کو دوبارہ مضبوط ہونے کیلئے پیسوں کے بھرے ہوئے کنستر نہ دیں، کیونکہ اس سے اسلام پسندوں کو دوبارہ امریکا کیلئے خطرہ بننے کا موقع ملے گا۔سینیٹر جان کورنن نے تشویش ظاہر کی کہ یہ معاہدہ محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہو سکتا ہے ، جس کے بعد ایران اپنے ہتھیار دوبارہ تیار کر لے گا۔امریکی اپوزیشن (ڈیموکریٹس) اس معاہدے پر مکمل طور پر متحد نظر آتی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک مہنگی جنگ شروع کی اور آخر کار ایک ایسے معاہدے پر راضی ہو گئے جو جنگ سے پہلے کی صورتحال (Status quo) کو ہی بحال کرتا ہے ، جبکہ ایران کو پہلے سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کے روز ایک غیر معمولی بیان میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مشرقِ وسطٰی کی جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ امن معاہدے کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے ، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس معاہدے پر ایک مختلف رائے رکھتے تھے ۔سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنائے گئے اپنے ایک خصوصی پیغام میں سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھاکہ اصولی طور پر میں اس معاملے پر ایک مختلف نقطۂ نظر (اختلافِ رائے ) رکھتا تھا، لیکن میں نے یہ اجازت معزز (ایرانی) صدر کی جانب سے دی گئی اس یقین دہانی اور عزم کے بعد جاری کی ہے جو انہوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے اور کونسل کے دیگر ارکان کی طرف سے مجھے کرائی ہے۔ انہوں نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ ایرانی قوم کے حقوق اور فرنٹ آف ریزسٹنس (مزاحمتی بلاک) کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں ) فرانس کے تاریخی ورسائے محل میں شمعوں کی روشنی میں گہری کالی سیاہی سے معاہدے پر دستخط کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ناقدین کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے لکھا یہ بے وقوف جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ایران کے ساتھ نرمی برتی ہے ، وہ یا تو مجھ سے جیلس ہیں، برے لوگ ہیں یا پھر بالکل ہی احمق ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ میری وجہ سے امریکی سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتیں دھڑا دھڑ نیچے گر رہی ہیں۔ دوسری جانب امن معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ بی بی(نیتن یاہو) کی کابینہ کے لوگ اس امن معاہدے پر حملے کر رہے ہیں اور کچھ حوالوں سے تو وہ ذاتی طور پر صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت پوری دنیا میں ڈونلڈ جے ٹرمپ ہی واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کیلئے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ پر یس کانفرنس میں جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران اسرائیل کا دفاع کرنے والے دو تہائی حفاظتی ہتھیار امریکی ہاتھوں سے بنائے گئے ہیں اور ان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی گئی ہے ۔اسرائیل کیلئے اصل مسئلہ ڈونلڈ جے ٹرمپ نہیں ہیں، اور اسرائیل میں جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ریاستہائے متحدہ امریکا کا صدر ہے، اسے اب جاگنے اور اس زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے ، جس صورتحال سے یہ ملک (اسرائیل) دوچار ہے ۔جے ڈی وینس نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں پہلی بار کھل کر اسرائیلی وزرا، وزیرِ داخلہ ایتمار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بیزلیل سموتریچ کا نام لیا، جو امریکا ایران جنگ بندی معاہدے پر مسلسل زہر اگل رہے ہیں۔وینس نے اخبار کو بتایاکہ میرا ان (اسرائیلی وزرا) کو یہ جواب ہوگا کہ آخر آپ کی اصل تجویز کیا ہے ؟ ،آپ محض 90 لاکھ (9 ملین)کی آبادی کا ایک چھوٹا سا ملک ہو،آپ اپنے ہر قومی سلامتی کے مسئلے کو مار دھاڑ سے حل نہیں کر سکتے ۔