ایف آئی آر کا مطلب شہری کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا نہیں : لاہور ہائیکورٹ

ایف آئی آر کا مطلب شہری کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا نہیں : لاہور ہائیکورٹ

صرف خواہشات کی بنیاد پر پاسپورٹ،شناختی کارڈ اور اکاؤنٹس بلاک نہیں ہوسکتے :جسٹس جاوید اقبال کے ریمارکس درخواست گزار پر مقدمات درج ہیں، اس بنیاد پر چیزیں بلاک ہوئیں:تفتیشی ،آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت طلب

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جاوید اقبال وینس نے شہری کا پاسپورٹ ،شناختی کارڈ اور اکائونٹس بلاک کرنے کیخلاف درخواست پرآئندہ سماعت پر تفتیشی کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ایف آئی آر کا مطلب شہری کوبنیادی سہولتوں سے محروم کرنا نہیں ہوتا ،صرف خواہشات کی بنیاد پر پاسپورٹ،شناختی کارڈ اور اکائونٹس بلاک نہیں ہوسکتے ،یہ چیز تو ایف آئی اے کیخلاف جاتی ہے ، آپ نے ٹرائل کورٹ سے اجازت کیوں نہیں لی ، وہ قانون بتائیں جس کے تحت آپ نے ساری کارروائی کی ؟۔تفتیشی نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار کی اسی نوعیت کی ایک درخواست جسٹس فاروق حیدر خارج کر چکے ،ٹرائل کورٹ نے بھی درخواست گزار کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج کی تھی ،درخواست گزار پر دو تین مقدمات درج ہیں جس بنیاد پر چیزیں بلاک ہوئیں۔وکیل نادرا نے کہا کہ ہم نے شناختی کارڈ ان بلاک کردیا ہماری حد تک معاملہ کلیئر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں