پٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کیلئے آج احتجاج : حافظ نعیم
لیوی ختم ،پٹرول 225روپے لٹر،قیمتیں 3سال کیلئے منجمد کی جائیں مہنگائی کم نہ ہوئی تو طویل دھرنے ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دھوکا
لاہور(سیاسی نمائندہ)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کیلئے آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبہ پر عملدرآمد نہ ہوا تو چاروں صوبوں میں طویل دھرنے دئیے جائیں گے ،منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور واضح کیا کہ اسرائیل کی موجودگی میں مشرق وسطٰی میں پائیدار امن ممکن نہیں،انہوں نے آزاد کشمیر میں مسائل کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی،امیر جماعت نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لٹر کی جائے، پٹرول پر عائد لیوی ختم کی جائے اور قیمتوں کو تین سال کے لیے منجمد کیا جائے ،عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بھی کم کی جائیں،حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں 28 فروری کی سطح پر واپس لائے ، لاک ڈاؤن ختم کرے اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیاں کم کرے ،موٹر سائیکل چلانے والا عام آدمی ، مزدو، طالب علم اور عوام لیوی کی مد میں حکومت کو سالانہ 400 ارب روپے ادا کر رہے ہیں جبکہ جاگیرداروں سے صرف 10 سے 12 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا،آئی پی پیز کیلئے کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں حکومت عوام سے 1800 ارب روپے وصول کر چکی ہے ، انہی حالات میں پنجاب کی وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدی گئی، سودی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں کہا پارلیمنٹ میں ایک غیر مسلم رکن نے کہا کہ سود اللہ کے خلاف جنگ ہے ، مگر مسلمان ارکان کو سود کے خلاف بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ امیر جماعت نے مطالبہ کیا کہ حکومت نے کم از کم اجرت 41 ہزار روپے مقرر کی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف 41 ہزار روپے میں کسی ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمہ کا کوئی مستقل حل نہیں بلکہ ایک دھوکا ہے ،حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی بات چیت کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتی، گالی اور گولی کی سیاست نہیں کر تے بلکہ جمہوری جدوجہد پر یقین ر کھتے ہیں، جب بھی انتخابات ہوں گے جماعت اسلامی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر سامنے آئے گی۔