تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ابھی بھی زیادہ،مزید کم کرنا ہوگا:وزیرخزانہ:ریٹرنز فائل نہ کرنے پر پینلٹی عائد کرنیکی ترمیم منظور
30 لاکھ زیرو انکم ٹیکس ریٹرنز فائل ہوئیں ،تاخیر پر جرمانہ ، پلاٹوں کی خریدوفروخت کی تفصیلات بھی ایف بی آر مانیٹر کریگا غلط کام پرٹیکس افسران کو پھانسی دینی چاہیے :ایف بی آر رکن،بعض مجوزہ سزائیں متوسط ٹیکس دہندگان پر غیر متناسب بوجھ :ارکان ٹیکس چوری قتل سے بڑا جرم ، لیٹ ریٹرن فائل ختم ،فائلر بننے کے چھ ماہ تک ٹرانزکشنز ہوئی تو فیس 25ہزار :ایف بی آر حکام
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ابھی بھی ٹیکس زیادہ ہے جس کو مزید کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیلز ٹیکس کی اسٹینڈرڈ شرح میں بھی کمی کی تجاویز کا جائز لیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کیلئے مالیاتی گنجائش کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو 52 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا اور آئی ایم ایف کو راضی کیا، کارپوریٹ اور تنخواہ دار پر ٹیکس ریلیف دینے کا وعدہ پورا کیا گیا۔ سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ اجلاس میں انکم ٹیکس ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے فنانس بل پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ مشکوک ریٹرنز سے مسابقت نہ رکھنے والی ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کیلئے سٹیٹ بینک کو مرکزی حب بنایا جائے گا ۔ایف بی آر کے پاس ٹیکس ریٹرن اور بینکوں کے پاس ڈیپازٹس پر پوچھنے کا اختیار ہو گا ۔
37 ہزار ارب روپے بینکوں میں ڈیپازٹس موجود ہیں جبکہ 30 لاکھ زیرو انکم ٹیکس ریٹرن فائل ہوئی ہیں۔ کمپنیوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بھی مانیٹرنگ ہو سکے گی۔ ریٹرنز فائل نہ کرنے والوں پر پینلٹی عائد کرنے کی ترمیم کی منظوری دی گئی۔ تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے پر نوٹس اور پھر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پہلی پینلٹی کے بعد دوسری مرتبہ 3 ماہ بعد پینلٹی عائد کی جائے گی۔ ایف بی آر حکام کی جانب سے بتایا کہ کمپنیاں، مینوفیکچرر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹوں کی خریدوفروخت کرنے والوں کی تفصیلات بھی ایف بی آر مانیٹر کرے گا ۔ڈسکوز، امیگریشن اور دیگر ذرائع سے نان فائلرز کی معلومات حاصل کی جائیں گی۔ ممبر ایف بی آر کی جانب سے کمیٹی اراکین کو نان ایکسپرٹ آن ٹیکس قرار دینے پر چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ایسے ریمارکس سے گریز کرنے کی تنبیہ کی، اجلاس میں پوشیدہ آمدن اور اثاثوں سے متعلق سزاؤں اور جرمانوں کی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا ۔
کمیٹی اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض مجوزہ سزائیں قانون کی پابندی کرنے والے اور متوسط آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر غیر متناسب بوجھ ڈال سکتی ہیں۔ اراکین نے زور دیا کہ ٹیکس نفاذ کا نظام متوازن، منصفانہ اور خطرات کی بنیاد پر تشکیل دیا جانا چاہیے ۔ اس موقع پر شرمیلا فاروقی نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اور ان کی والدہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 111 کے غلط استعمال کا شکار رہ چکی ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ دفعہ غیر ظاہر شدہ آمدن اور اثاثوں سے متعلق ہے اور اس کے غلط استعمال سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔شرمیلا فاروقی نے بتایا کہ ان کی والدہ کے خلاف دبئی میں مبینہ طور پر غیر ظاہر شدہ جائیداد رکھنے کے الزام میں ایک غلط مقدمہ درج کیا گیا تھا،ان کی والدہ کو دفعہ 111 کے تحت 4 کروڑ روپے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا حالانکہ محکمہ ٹیکس کے پاس اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ناموں کی مماثلت کی وجہ سے پیدا ہوا کیونکہ ایک اور خاتون کا نام بھی ان کی والدہ کے نام سے ملتا جلتا تھا ۔بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ الزام بے بنیاد تھا ۔
ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی یونٹ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ٹیکس دہندہ کے خلاف آمدن یا اثاثے چھپانے کا الزام ثابت کرنا محکمہ ٹیکس کی ذمہ داری ہے اور بغیر ثبوت کے کارروائی نہیں ہونی چاہیے ۔ اس دوران ایف بی آر کے ایک سینئر رکن نے جذباتی انداز میں کہا کہ جو بھی ٹیکس افسران غلط کام کرتے ہیں، انہیں پھانسی دے دینی چاہیے ، کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے ایف بی آر افسر کے ریمارکس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نوعیت کے تبصرے پہلے بھی دو مرتبہ کر چکے ہیں لہٰذا آئندہ ایسے بیانات سے گریز کریں بعد ازاں ایف بی آر کے سینئر رکن نے کمیٹی سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پارلیمنٹیرینز کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس قوانین میں ترامیم کرتے وقت ٹیکس دہندگان کے حقوق، قانونی تحفظات اور شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ڈی جی ٹیکس پالیسی آفس ڈاکٹر نجیب میمن نے کہا ٹیکس چوری کرنا قتل کرنے سے بڑا جرم ہے ۔ نئے فنانس بل میں لیٹ ریٹرن فائل کو ختم کر دیا گیا اور پابندی عائد کی گئی کہ فائلر بننے کے چھ ماہ تک ٹرانزکشنز کی گئی تو فائلرز بننے کی فیس 25 ہزار روپے تک عائد ہو سکتی ہے ۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ متعدد ٹرانزکشنز میں لوگ ٹیکس بچانے کیلئے فائلر کا اسٹیٹس حاصل کرنے کے بعد ایکٹو ٹیکس پیئر نہیں رہتے ۔ انکم ٹیکس سیکشن 236CA میں ترمیم کرتے ہوئے غیرملکی ڈراموں کو پاکستان میں نشر کرنے پر ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف سلیب کی منظوری دے دی ۔کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس ریٹ مزید کم کیے جائیں،حکومت کو تنخواہوں میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنا چاہیے ۔ ٹرانسپورٹ سروسز، فارورڈنگ سروس، ایئر کارگو سروس، کوریئر سروس، ہوٹل سروس، سکیورٹی گارڈز سروس سمیت متعدد شعبوں کیلئے سروسز پر ٹیکس کی شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کر دی گئی ، ڈاکٹرز، وکلاء، آرکیٹیکٹ، اکاؤنٹنٹس، سوفٹ ویئر انجینئر ز اور خود مختار سروسز فراہم کرنے پر 15 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا ۔آئی ٹی سروسز فراہم کرنے پر ٹیکس کی شرح 4 فیصد ہو گی جبکہ دیگر سروسز کی فراہمی پر ٹیکس شرح 14 فیصد ہو گی۔ سوشل میڈیا سے آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا ۔پراپرٹی کی خریدوفروخت پر 236K اور 236C کی بھی منظوری دی گئی آئندہ مالی سال کیلئے مزید اداروں کیلئے ٹیکس دینے کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی۔