شکوہ جواب شکوہ ، وزیراعظم کا اپوزیشن رہنمائوں سے مصافحہ

شکوہ جواب شکوہ ، وزیراعظم کا اپوزیشن رہنمائوں سے مصافحہ

آپکے پاس ’’ہر فن مولا‘‘ وزیر، اچکزئی وزیراعظم کو شہباز بھائی پکارتے رہے بجٹ منظوری کے دوران کسانوں کی مشکلات ،ٹیکسوں ، مہنگائی کا ایشو غالب رہا

اسلام آباد (سہیل خان) قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 کی منظوری کے دوران کسانوں کی مشکلات، ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کے مسائل بحث کا مرکز رہے ۔ اپوزیشن کے ایوان سے واک آؤٹ کے بعد حکومت نے بلا روک ٹوک بجٹ منظور کر لیا۔اجلاس کے  دوران قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان شکوہ جوابِ شکوہ بھی ہوا، جبکہ اپوزیشن لیڈر نے سپیکر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنی تقریر کے دوران محمود اچکزئی بار بار وزیراعظم کو ‘‘شہباز بھائی’’ کہہ کر مخاطب کرتے رہے ۔ انہوں نے حکمرانوں سے گیس رائلٹی کا حساب بھی مانگا اور کہا کہ ‘‘جو بکتا ہے وہ اچھا پاکستانی ہے ’’۔بجٹ بحث کے دوران اپوزیشن ارکان حکومت کو طنزیہ انداز میں سولر پینلز پر ٹیکس، لینڈ کروزر سستی اور دودھ مہنگا ہونے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کے پاس ‘‘ہر فن مولا’’ وزیر ہیں، جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شعر پڑھا: ‘‘حسن بھی سچ ہے قرینے سے کہا جائے ، تلخ سچ ہو تو ہنس کے کہا جائے۔

’’وزیراعظم نے جذباتی انداز میں کہا کہ 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کر لی جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وہ جائز حکومت تھی تو یہ بھی جائز حکومت ہے ۔مالیاتی بل 2026-27 پر کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دوران جب اپوزیشن کے ایک رکن نے مالیاتی امور میں سینیٹ کے کردار پر تنقید کی تو سپیکر نے انہیں روک دیا اور کہا کہ سینیٹ پارلیمان کا حصہ ہے ، سینیٹرز ہمارے کولیگ ہیں اور ان پر تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے اسمبلی میں کہا کہ سینیٹرز سوٹ پہن کر آ جاتے ہیں، انہیں ووٹ لینے کے لیے عوام کے پاس جانا پڑے تو اصل صورت حال کا اندازہ ہو جائے ۔وزیراعظم ایوان میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے پہلی قطار میں بیٹھے پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی سے مصافحہ کیا۔ بعد ازاں وہ قائد حزب اختلاف کی نشست پر گئے اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات اور خیریت دریافت کی۔ وزیراعظم نے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے بھی مصافحہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں