شک کا فائدہ ملزم کو ملتا:ہائیکورٹ ،قتل اور لیبیا کشی حادثہ کے ملزم رہا
گواہوں کے بیانات میں تضاد ، ایف آئی آراور تفتیش بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے :چیف جسٹس مس عالیہ نیلم ملزموں کو گنجا کر کے ویڈیوز وائرل کرنا غیرانسانی ، پولیس افسر کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں :جسٹس علی ضیا
لاہور (کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سکیورٹی گارڈ کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم بلال احمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے ۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ملزم بلال احمد کی اپیل پر 30صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے کے مطابق 13 جنوری 2020 کو فیصل آباد پولیس نے سکیورٹی گارڈ کے قتل کے الزام میں بلال احمد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے مارچ 2021 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات میں تضادات ہیں، جبکہ گواہوں کی جائے وقوعہ پر موجودگی بھی مشکوک دکھائی دیتی ہے ۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ مقدمے کی ایف آئی آر اور بعد ازاں ہونے والی تفتیشی کارروائی بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے ۔ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے اور اگر ریکارڈ پر ایک بھی معقول شک موجود ہو تو ملزم بریت کا حق دار ہوتا ہے ۔
دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی نے لیبیا کشتی حادثہ کے مبینہ مرکزی ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا اورملزم شفاقت کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو لیبیا کشتی حادثہ میں پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکت کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 14 جون 2025 سے قید میں ہے ۔ کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں سے ملزم کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ مزید برآں تفتیشی ادارے کی جانب سے تاحال مقدمے کا چالان پیش نہیں کیا گیا۔علاوہ ازیں گوجرانوالہ میں ہتھکڑیاں لگے نوجوانوں کو گنجا کرکے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملہ پر ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے آئی جی پنجاب ، سی پی او گوجرانوالہ سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا تحریری حکم جاری کردیاجس میں کہا گیاکہ کسی پولیس افسر کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ۔ پولیس افسر ملزم کی بے عزتی کرنے ، اسے گنجا کرنے یا کسی بھی طریقے سے غیر انسانی سلوک کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ۔