امریکی حملوں پر ایران کا جوابی وار : آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل برادر بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، لبنان اسرائیل معاہدہ حزب اللہ نے مسترد کردیا
امریکی حملوں میں سیریک کا مواصلاتی ٹاور نشانہ ،ایرانی منظوری کے بغیر گزرنے والے جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی:پاسداران انقلاب، بحرین پر ڈرون حملہ،تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائیگا:وینس اسرائیل لبنان معاہدے کیخلاف جنوبی بیروت میں مظاہرے ، نبطیہ پرپھر اسرائیلی حملہ، ایران کو نظرانداز کرکے متوازی راستہ ہرمزکو محفوظ نہیں بناسکتا:تہران ،تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی حملوں پر ایران کا جوابی وار ،آبنائے ہر مز میں ایک اور تیل بردار بحری جہاز کو نشانہ بنا یا گیا ، لبنان ، اسرائیل معاہدہ حزب اللہ نے مستر د کر دیا ۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت شدید ترین حد تک بڑھ گئی جب امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے فضائی حملوں کے بعد ایک تیل بردار بحری جہاز (ٹینکر)پر پروجیکٹائل (میزائل یا راکٹ)داغا گیا ۔یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والے عبوری امن معاہدے کے بعد اب تک کی سب سے بڑی فوجی کشیدگی ہے ۔دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر دو ہفتے قبل ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیاہے ،واشنگٹن نے کہا کہ اس نے جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ایرانی اہداف پر حملے کیے ، جبکہ ایران نے کہا کہ اس نے جواباً ہفتے کے روز امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا۔ہفتے کو آبنائے ہرمز میں ٹینکر پر حملہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد ہوا، جس نے حالیہ کشیدگی کو مزید بڑھا دیا،ایران نے دنیا کی سب سے اہم توانائی کی بحری گزرگاہ پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کی نئی کوشش شروع کی ہے ، جو کئی ماہ کی رکاوٹوں کے بعد گزشتہ دو ہفتوں سے دوبارہ کھلنا شروع ہوئی تھی۔
برطانیہ کی بحری سلامتی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ متاثرہ ٹینکر کے پل (برج) کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ ہے ۔ مشترکہ بحری معلوماتی مرکز، جو جہاز رانی کے تحفظ کیلئے مختلف بحری افواج کے اتحاد کے تحت کام کرتا ہے ، نے حالیہ واقعات کے باعث سکیورٹی خطرے کی سطح بڑھانے کا اعلان کیا۔ایران نے جہازوں پر مخصوص حملوں کی خبروں پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ان نامعلوم بحری جہازوں کی طرف انتباہی فائرنگ کی جو ایران کی منظوری کے بغیر راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ اس کے بعد دیگر جہاز بھی آبنائے سے گزرنے کیلئے ایرانی اجازت نامے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے جہاز پر حملہ اچھا نہیں لگا، جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ایران نے کل چار بار جہاز پر حملہ کیا جس میں سے تین کو ناکام بنادیا گیا تھا،کیا اس پر ردعمل دیا جائے گا،یہ آپ جان لیں گے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی پابندی کی جبکہ ایران کسی بھی نئی کشیدگی کا ذمہ دار ہوگا،انہوں نے ایکس پر لکھا:ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ ہم نے اس کی پاسداری کی۔ اگر انہیں مفاہمتی یادداشت کے اطلاق پر اختلاف ہے تو وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے ، تاہم ایران کو آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکی حمایت یافتہ فوجی اہداف پر دفاعی حملے کیے ، جبکہ بحرین، جہاں امریکی بحریہ کا علاقائی ہیڈکوارٹر موجود ہے ، نے ایرانی ڈرون حملے کی اطلاع دی۔ امریکی فوج نے فوری طور پر ان اطلاعات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ایران نے امریکا پر عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا، خاص طور پر لبنان میں وعدہ کیے گئے جنگ بندی کو برقرار نہ رکھنے پر، جہاں امریکی اتحادی اسرائیل نے مارچ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی تھی۔اسرائیل اور لبنان متعدد مرتبہ امریکی ثالثی میں جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں، جس میں تازہ ترین معاہدہ جمعہ کو سامنے آیا۔ تاہم اب تک ان معاہدوں کے اثرات محدود رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل نے قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا سے انکار کیا جبکہ حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کی موجودگی تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیاجبکہ معاہدے پر دستخط کے بعد جنوبی بیروت میں مظاہرے بھی دیکھے گئے ہیں۔
لبنانی سرکاری ٹی وی نے ہفتے کو جنوبی علاقے نبطیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے کی اطلاع دی، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایک ایسے شخص کو نشانہ بنایا جو اس کی افواج کیلئے خطرہ تھا۔حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل-لبنان معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ کالعدم ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن نے خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے کشیدگی پیدا کر کے اور آبنائے ہرمز میں تناؤ بڑھا کر جنگ ختم کرنے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔جنگ کے دوران ایران نے اکثر امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا کہ امریکی افواج کی جانب سے بندرگاہی شہر سیریک میں مواصلاتی ٹاور پر حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے فیصلہ کن جواب دیا۔بحرین نے ایران کے تازہ حملوں کو مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج میں سینکڑوں جہاز، جن میں تیل سے بھرے ٹینکر بھی شامل تھے ، پھنسے ہوئے تھے۔
گزشتہ دو ہفتوں میں جیسے ہی جہاز آبنائے کے ذریعے نکلنے لگے ، رسد بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب گر گئیں۔تاہم عالمی توانائی بحران کے مکمل حل کیلئے ضروری ہے کہ آبنائے ہرمزسے دونوں سمتوں میں جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو، جو اسی صورت ممکن ہوگی جب جہازران اسے محفوظ سمجھیں۔امریکا عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی راستے کو فروغ دے رہا ہے ، جبکہ ایران چاہتا ہے کہ جہاز اس کے زیرِ کنٹرول شمالی راستے اور اس کے پانیوں سے گزریں۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو متوازی راستوں اور ایران کو نظر انداز کرکے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا، انتظامی فریم ورک اسلام آباد میمورنڈم کی شق 5 کے مطابق ہونا چاہئے ، ایسا نہ ہونے کی صورت میں متوازی بحری راستے کی معطلی ناگزیر ہوگی۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ ایران کی بحری ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔جنگ کے دوران اکثر ایسا ہوا کہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران کشیدگی بڑھی جبکہ مالیاتی منڈیاں بند رہیں، جس سے فریقین کو فوری معاشی اثرات کے بغیر سخت مؤقف اختیار کرنے اور حملوں کا تبادلہ کرنے کا وقت ملا۔اس سے قبل بھی جمعہ اور ہفتہ کو سخت بیانات کے بعد پیر کو منڈیاں کھلنے سے پہلے دونوں فریق نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے رہے تھے ۔تشدد کے دوبارہ آغاز سے پہلے جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی، اور پورے ہفتے میں نمایاں گراوٹ کا رجحان سامنے آیا۔تاہم ماہرین کے مطابق مارکیٹ پیر کے روز کھلنے پر تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھی جا سکتی ہے ۔