آزادانہ بحری آمدورفت پوری دنیا کی بنیادی ضرورت بن گئی : شہبباز شریف
بھارت امن واستحکام کو نقصان پہنچانے کیلئے بزدلانہ ہتھکنڈے اور پراکسیوں کا استعمال کر رہا،عزائم ناکام بنائیں گے بحریہ کو مزید مضبوط موثر اور جدید دفاعی فورس بنانے کیلئے پرعزم ہیں:وزیراعظم، پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب
کراچی(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک کے خلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے ، پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ،دشمن ہمارے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بزدلانہ ہتھکنڈے اور اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے ،مسلح افواج غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں،پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن،بات چیت اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ،خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لئے میری ٹائم سکیورٹی کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کیا ہے ، آج آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی پوری دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے ،حکومت پاک بحریہ کو مزید مضبوط موثر اور جدید دفاعی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125 مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اﷲ تارڑ،گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ ،پاک بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل نوید اشرف اور اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔وزیرِ اعظم نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کئے ، مڈ شپ مین عمر مختار کو مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا،آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل سے نوازا گیا، اکیڈمی ڈرک مڈ شپ مین کا اعزاز ہادی عباس خان کے حصے میں آیا،شارٹ سروس کمیشن کورس کی آفیسر کیڈٹ الویرا حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا مجھے خوشی ہے کہ پاس آؤٹ ہونے والوں میں برادر ممالک ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس بھی شامل ہیں،مجھے امید ہے کہ اس بہترین تربیتی مرکز سے حاصل ہونے والا علم، تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت ان کے لیے پورے کیریئر کے دوران انتہائی مفید ثابت ہوگی اور وہ اپنے اپنے ممالک کی بحریہ کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں موثر طریقے سے حصہ لے سکیں گے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس اکیڈمی میں ایسے موقع پر خطاب کررہے ہیں جب عالمی سطح پہ بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،جو ہماری زندگیوں پر ایسے اثرات مرتب کر رہی ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پاکستان کو فخر ہے کہ وہ اﷲ کے فضل و کرم سے دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے ،برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں،جس پر مجھے بھی ثالث کے طور پر دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔وزیراعظم نے قیام امن کے لیے دن رات انتھک کاوشوں اور فریقین کو امن اور ہم آہنگی کے راستے پر لانے کے لئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لئے میری ٹائم سکیورٹی کی اہمیت کی حقیقت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کیا ہے ، آج آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی ایک سہولت ہی نہیں پوری دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاک بحریہ کو مزید مضبوط، موثر اور جدید دفاعی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف ہمارے قومی دفاع کو یقینی بنانے کی مؤثر صلاحیت رکھتی ہو بلکہ وسیع بنیادوں پر میری ٹائم ریجن میں بھی بھرپور کردار ادا کر سکے ،پاک بحریہ نے معرکہ حق ،آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے اور اپنے بحری سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔معرکہ حق میں پاک بحریہ کا کردار شاندار رہا۔ہمارے مشرقی ہمسائے کو گزشتہ سال مئی میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ ہمارے ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بزدلانہ ہتھکنڈے اور اپنی پراکسیوں کو استعمال کر رہا ہے جبکہ ہماری بہادر مسلح افواج ہماری مغربی سرحدوں سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں،پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پورا ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے آہنی عزم رکھتا ہے جبکہ پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن،بات چیت اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔وزیراعظم نے کشمیر،فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے بھی پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم کا اعزازات حاصل کرنے والے اور دیگر کیڈٹس کے ساتھ گروپ فوٹو ہوا جبکہ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کئے ۔