آزاد کشمیر صورتحال پر حافظ نعیم، اچکزئی کی ملاقات، ایکشن کمیٹی سے رابطہ کیلئے کمیٹی قائم

آزاد کشمیر صورتحال پر حافظ نعیم، اچکزئی کی ملاقات، ایکشن کمیٹی سے رابطہ کیلئے کمیٹی قائم

معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ضروری ،بات چیت پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوگی:امیر جماعت اسلامی جو ہوسکا کریں گے ، دیکھنا ہوگا کہ کشمیری اس حدتک کیوں پہنچے ، پاکستان کو نظر بد لگ گئی یا ہماری فاقہ مستی :اپوزیشن لیڈر

اسلام آباد( خصوصی نیوز رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہے ۔ جماعت اسلامی نے معاملات کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی، تاہم ثالثی اسی صورت ممکن ہوتی ہے جب دونوں فریق اس پر رضامند ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اور مسئلہ کشمیر کے وسیع تر مفاد میں تمام متعلقہ فریقوں کو کردار ادا کرنا چاہیے ، لیکن حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جن کے مثبت نتائج سامنے آتے ۔ احتجاج کرنے والوں اور حکومت کی ذمہ داریاں اور مؤقف مختلف ہوتے ہیں، اس لیے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ضروری ہے ۔ اگر امن کو موقع نہ دیا گیا تو ایسی خلیج پیدا ہو سکتی ہے جسے پُر کرنا مشکل ہوگا۔ اگر ملک میں امن قائم نہ ہوا تو دنیا کو پاکستان کا کیا پیغام جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاکرات اور بات چیت پاکستان کے آئینی اور قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہوگی ۔

آزاد کشمیر کی موجودہ نازک ترین صورت حال کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ صورت حال کی بہتری کے لئے جماعت اسلامی پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور دیگر قومی قیادت سے ملاقاتیں کرینگے ۔ امیر جماعت اسلامی نے ایک اور کمیٹی جموں و کشمیر ایکشن کمیٹی سے رابطہ کے لیے قائم کی ہے ۔اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کو ثالثی کی پیش کش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کسی طور قابل قبول نہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے لازوال وابستگی کسی شک و شُبے سے بالا ہے ۔ اجلاس میں طے پایا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے صدر و وزیراعظم پاکستان سے ملاقاتیں اور قومی قیادت سے رابطے کرکے صورتِ حال کو معمول پر لانے کی کوششیں کریں گے ، اجلا س میں قائم کردہ کمیٹی فوری طور پر ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں کرکے تجاویز مرتب اور عملی اقدامات کرے گی۔

اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے باعث آزاد کشمیر کے بعض داخلی راستوں کی بندش سے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مطلوبہ اشیا کی ترسیل یقینی بنائے ۔ دونوں رہنماؤں نے کہا آزاد کشمیر کی صورت حال پر تشویش ہے ، امن کو موقع نہیں دیا گیا تو ایسی دراڑ پیدا ہوگی جس کو بھرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورت حال پر ہر پاکستانی تشویش میں ہے ، لوگوں میں اس وقت غصہ ہے جب آپ عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کرتے ، اس چیزسے سب نے فائدہ اٹھایا ہے ، مسئلے کی جڑ کو بھی پکڑیں گے اور جو بھی بات چیت ہوگی وہ پاکستان اور آئین کے فریم ورک میں ہوگی۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پتا نہیں پاکستان کو نظر بد لگ گئی یا ہماری اپنی فاقہ مستی کا نتیجہ ہے، پاکستان کاآئین احتجاج کی اجازت دیتا ہے ، حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلا پیداہوچکا ہے ۔

ہم سے جو ہوسکا وہ ہم کریں گے ، دیکھنا ہوگا کہ کشمیری اس حدتک کیوں پہنچے ۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان آج اس گھمبیر مسئلے کے حل کی تلاش کے لیے آئے ہیں، کشمیر کی صورت حال کی وجہ سے پورا پاکستان پریشان ہے ،اگر آج کشمیر میں الیکشن ہوں تو کشمیری عوام کا ان پر اعتماد نہیں، مہاجرین کی 12 نشستوں کو کشمیر میں حکومت سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، رانا ثنا اللہ نے 12 سیٹوں کے حوالے سے متنازع بیان دیا۔ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو یہاں تک پہنچانے میں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار ہے ، خواجہ آصف کا بیان جلتی پر تیل کے مترادف ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں