کراچی رینجرز حملہ: دہشتگروں کیخلاف کارروائیاں تیز ہونے کاامکان
ہدف امن، معیشت اور ریاستی ادارے ، قومی اتحاد اور مؤثر انٹیلی جنس ناگزیر
(تجزیہ:سلمان غنی )
گلستانِ جوہر کراچی میں رینجرز کیمپ پر دہشتگرد حملہ اور چار اہلکاروں کی شہادت ایسا واقعہ ہے جسے حکومت اور سکیورٹی ادارے انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے جبکہ ماضی میں اس تنظیم کے افغانستان میں موجود نیٹ ورکس اور پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ دہشتگردوں کا اصل ہدف کیا ہے اور انہوں نے کراچی میں رینجرز کی تنصیب کو کیوں نشانہ بنایا؟،کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور یہاں امن و امان کی صورتحال ملکی معیشت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن عناصر سمجھتے ہیں کہ اگر کراچی کو غیر مستحکم کیا جائے تو اسکے اثرات صرف سندھ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
رینجرز نے گزشتہ برسوں میں کراچی میں امن بحالی میں مرکزی کردار ادا کیا، اس لیے اس ادارے کو نشانہ بنانا دراصل ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے ۔سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ ریاستی ادارے دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں تاہم ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی بھی ہیں کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسکی نوعیت بدل چکی ہے ۔ اب صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ دہشتگرد نیٹ ورکس، مالی معاونت، سہولت کاروں اور انتہاپسندانہ سوچ کیخلاف بھی مؤثر حکمت عملی درکار ہے ۔حالیہ عرصے میں پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں مثبت توجہ ملی ہے ،خطے کے معاملات میں بھی اسکے کردار پر بات ہو رہی ہے ۔
ایسے حالات میں بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان مخالف عناصر ملک کے اندر بدامنی پیدا کرکے اس مثبت تاثر کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی حتمی تصدیق متعلقہ تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ دہشتگردی کا ہر واقعہ قومی سلامتی، معیشت اور عوامی اعتماد پر اثر انداز ہوتا ہے ۔یہ بھی ضروری ہے کہ دہشتگردی کیخلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن داخلی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک صفحے پر ہونا ہوگا۔ دہشتگرد ہمیشہ ایسے مواقع تلاش کرتے ہیں جب ریاست سیاسی یا سماجی دباؤ کا شکار ہو، اس لیے قومی یکجہتی ہی انکے عزائم ناکام بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے ۔کراچی واقعے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں سکیورٹی مزید سخت کی جائیگی اور دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف کارروائیاں تیز ہونگی۔ پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی کے خطرے کا مستقل اور جامع تدارک ہے تاکہ امن، معاشی استحکام اور عوام کا اعتماد ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے ۔