مستقل معذور ملازمین کے اہلِخانہ کی تقرری کیلئے نئی گائیڈ لائنز جاری
اسلام آباد(نیوز رپورٹر)اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دورانِ ملازمت مستقل معذور ہونے پر ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کے شریکِ حیات یا بچے کی میڈیکل انویلڈیشن پالیسی کے تحت تقرری سے متعلق نئی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس کے تحت ایسے زیرِ التوا کیسز جن میں تقرری کا حق سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17 اکتوبر 2024 کے فیصلے سے قبل حاصل ہو چکا تھا اور متاثرہ شریکِ حیات یا بچے نے معذور سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کے ایک سال کے اندر درخواست جمع کرا دی تھی، ان پر فیڈرل کانسٹیٹیوشن کورٹ آف پاکستان کے 27 فروری 2026 کے فیصلے اور وزارتِ قانون و انصاف کی قانونی رائے کی روشنی میں تقرری کی جا سکے گی بشرطیکہ بنیادی پالیسی کی تمام دیگر شرائط پوری ہوں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق ایسے بچے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت نابالغ تھے ان کے لیے ایک سال کی مقررہ مدت کا آغاز 18 سال کی عمر مکمل ہونے کی تاریخ سے ہوگا اور ان کے کیسز پر اسی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور انہیں اپنے ماتحت محکموں اور ذیلی دفاتر میں بھی فوری نفاذ کے لیے جاری کیا جائے ۔