غیرملکی فنڈزپرمنصوبوں میں بے ضا بطگیاں، ریکارڈ طلب

غیرملکی فنڈزپرمنصوبوں میں بے ضا بطگیاں، ریکارڈ طلب

پختونخوا کے جاری منصوبوں میں وسائل کی تقسیم پرشفاف تحقیقات کرائی جائیں ،سینیٹ کمیٹی

  اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے )سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے خیبرپختونخوا میں غیرملکی مالی معاونت سے جاری سڑکوں، سیلاب بحالی اور آبپاشی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور ٹھیکوں کی شفافیت پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کامطالبہ اور مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرصدارت اجلاس میں صوبائی حکام نے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ شدید متاثرہ اضلاع اپر دیر، لوئر دیر اور چترال کو نظرانداز کرکے مردان اور پشاور میں زیادہ منصوبے کیوں د ئیے گئے ۔ سینیٹر روبینہ خالد اور سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے ترقیاتی وسائل کی تقسیم پر اعتراضات اٹھائے ، جبکہ کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈونرز کو منصوبوں کی ترجیحات سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا پاکستان کا بیرونی قرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ، اس لئے قرض اور گرانٹس اسی مقصد پر خرچ ہونی چاہئیں جس کے لئے حاصل کی جائیں۔ انہوں نے سڑکوں کی تعمیراتی لاگت، اضافی اخراجات اور صرف چند کمپنیوں کو ٹھیکے دینے پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس انوائٹنگ ٹینڈر (NIT)کی تفصیلات مانگ لیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے تعاون سے سڑکوں، آبپاشی اور سیلاب بحالی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے ، جبکہ کمیٹی نے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسمیشن منصوبے میں عالمی بینک کے مقامی نمائندے کی مبینہ مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن کو معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...