سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں : مریم نواز

سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں : مریم نواز

کلینک آن ویل متاثرہ علاقوں میں بھیجنے ، صوبہ بھر میں مین ہول، گٹر ،گڑھے محفوظ بنانے کی بھی ہدایت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہو رہیں :وزیراعلیٰ ، اجلاس میں اہم فیصلے

لاہور(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون، اربن فلڈنگ، رودکوہی اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام انسانی اور مکینیکل وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں واسا اور دیگر متعلقہ محکموں نے مون سون سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں بارشوں، نکاسی آب اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ متعدد اہم فیصلے کیے گئے ۔وزیراعلیٰ نے کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو فوری نوٹس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، کھمبوں پر لٹکتے بجلی کے تار شہریوں کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری کارروائی، شکایات کے ازالے کا ریکارڈ مرتب کرنے ، دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر نہانے کی پابندی یقینی بنانے اور ان مقامات کی ڈرون مانیٹرنگ کی ہدایت بھی جاری کی۔مریم نواز نے مساجد، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بارشوں اور فلڈ کی صورتحال سے متعلق بروقت آگاہی مہم چلانے ، مون سون کے دوران تمام تعمیراتی مقامات، مین ہولز، گٹروں اور گڑھوں کو محفوظ بنانے ، خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لینے اور خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کو رضاکارانہ طور پر خالی کرانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو سیلابی پانی اور خطرناک مقامات پر جانے سے روکیں جبکہ سانپ کے کاٹنے اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے کلینک آن ویل متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کا بھی حکم دیا۔

انہوں نے ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں رودکوہی اور اربن فلڈنگ سے متعلق بروقت وارننگ اور انخلاء، مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر پیشگی انخلاء اور سیاحوں کو اعلانات کے ذریعے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے ، این ڈی ایم اے ، واسا، ریسکیو 1122 اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان مکمل اشتراک کار، ہر ضلع میں مون سون فلڈ کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رکھنے ، کمرشل، عوامی اور رہائشی علاقوں سے بارشی پانی کی فوری نکاسی اور ضرورت کے مطابق مزید ڈی واٹرنگ سیٹس فراہم کرنے کا حکم دیا۔اجلاس میں مریم نواز نے گجرات، اوکاڑہ، لاہور اور مری کے ڈپٹی کمشنرز، ایم ڈی واسا، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین، وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جہاں پہلے کئی کئی دن پانی کھڑا رہتا تھا وہاں اب چند گھنٹوں میں نکاسی آب ممکن ہوئی، موسمیاتی تبدیلی کے باعث متوقع زیادہ بارشوں کے پیش نظر کئے گئے پیشگی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے جبکہ کئی دہائیوں بعد گجرات شہر کو بارش کے بعد بروقت نکاسی آب کے باعث بڑے نقصان سے بچایا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ 41 اضلاع میں واسا کے قیام اور پی ڈی پی منصوبے کے مثبت نتائج سامنے آئے ، تمام اضلاع میں ایک ہزار ڈی واٹرنگ سیٹس، دیگر مشینری فراہم کی گئی ،صوبہ بھر میں 6 لاکھ 60 ہزار ٹن ڈی سلٹنگ، 4 ہزار کلومیٹر سیوریج لائن، سوا دو لاکھ مین ہولز اور 724 کلومیٹر ڈرین کی صفائی مکمل کی گئی ، مزید 207 جدید ڈی واٹرنگ سیٹس بھی فراہم کیے جائیں گے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر 41 اضلاع میں جدید ترین پمپنگ آؤٹ واٹر ڈسپوزل سٹیشن فنکشنل کر د ئیے گئے جبکہ لاہور کے لالک چوک میں کھڑے کئی کئی فٹ پانی کی چند گھنٹوں میں نکاسی مکمل کر لی گئی لاہور میں 48 گھنٹے مسلسل 343 ملی میٹر بارش کے باوجود پانی جمع نہ ہونے پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پرلاہور کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کے علاوہ واسا،لوکل گورنمنٹ اور تمام متعلقہ اداروں کے افسران اور عملہ فیلڈ میں موجود رہے ۔ ادھر وزیراعلیٰ کی ہدایت پر انڈر پاسزکی لائیو مانیٹرنگ شرو ع کردی گئی اور اب سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سے کسی بھی انڈر پاس میں پانی کھڑا ہونے کی صورت میں فوری طور پر نشاندہی ممکن اور فوری سدباب ہو سکے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...