سعودی عرب اور حوثیوں میں جنگ بندی ختم : یمن میں عسکری ٹھکانوں پر فضائی حملے، جواب میں حوثی ملیشیا نے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا

سعودی عرب اور حوثیوں میں جنگ بندی ختم : یمن میں عسکری ٹھکانوں پر فضائی حملے، جواب میں حوثی ملیشیا نے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا

حدیدہ میں نیول بیس ،کمران جزیرے پر ملٹری کیمپ نشانہ،جازان میں ریفائنری سے دھواں اٹھتا دیکھاگیا، ینبع پر داغے گئے ڈرون اور میزائل تباہ، ایران نے ہرمز میں 4 جہاز روک لئے امریکی فوج کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنیوالے جہاز پر فائرنگ،عراق میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون مار گرایا،عمان اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق ہونیکا امکان

صنعا / ریاض / واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں )مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ، جہاں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں اور سعودی عرب نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دئیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد 2022 سے طے شدہ عارضی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو گئی ہے اور دونوں فریقین نے سرحدوں پر پیش قدمی شروع کر دی ہے ۔حوثی ملیشیا کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات (جازان اور ینبع) کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصدیق شدہ ویڈیوز میں جازان میں قائم آرامکو ریفائنری سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے ہیں۔ سعودی عرب میں نصب یونانی دفاعی ایئر ڈیفنس سسٹم نے ینبع کے قریب یمن سے فائر کیے گئے 2بیلسٹک میزائل اور ڈرون کو تباہ کر دیا۔ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کا سب سے اہم تیل کا ٹرمینل ہے ، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں کو بھیجا جاتا ہے جبکہ یمن کی سرحد کے قریب واقع جازان ریفائنری کی روزانہ چار لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت ہے ۔اس سے قبل جمعہ کے روز سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر حدیدہ میں واقع ایک نیول بیس اور کمران آئی لینڈ پر قائم ملٹری کیمپ پر فضائی حملے کیے تھے۔

حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سعودی ڈرلنگ اور آئل ٹینکرز کیلئے بحیرہ احمر میں سمندری ناکہ بندی کر دی ہے ۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 4 بحری جہازوں کو روک لیا ہے ۔جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی اور اسے روک دیا۔جبکہ مسلسل 13 راتوں کی بمباری کے بعد گزشتہ رات امریکی فوج نے ایران کے اندر کسی نئے حملے کا اعلان نہیں کیا۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران روزانہ دوپہر کے وقت امریکی فوج صدر ٹرمپ کو حملوں کا منصوبہ پیش کرتی رہی، جسے وہ منظور کرتے اور چند ہی گھنٹوں بعد ان پر عمل درآمد کر دیا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق جمعہ کو بھی صدر ٹرمپ کو اسی نوعیت کا ایک منصوبہ پیش کیا گیا، مگر اس مرتبہ انہوں نے منظوری دینے کے بجائے فوج کو واضح ہدایت دی کہ ایران پر کوئی نیا حملہ نہ کیا جائے۔

اس فیصلے کے کچھ ہی دیر بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے یا انہیں مزید شدت دینے کا اختیار موجود ہے ، حتیٰ کہ ان کے پاس موجود ہر چیز کو تباہ کرنے تک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے نزدیک زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ایران کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنا ہے ۔صدر ٹرمپ نے کہاہم اس وقت ایرانیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں،اس لئے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حتمی حملوں کا فیصلہ نہیں کیا ہے ، ان کے الفاظ تھے وہ روز بروز زیادہ سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ ایران کے پاس ایک ہی راستہ ہے : یا تو وہ معاہدہ کرے یا پھر پہلے سے کہیں زیادہ شدید امریکی حملوں کا سامنا کرے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی منصوبوں کی مکمل معلومات حاصل نہیں تھیں، چنانچہ انہوں نے بڑے فضائی حملوں کے امکان کے پیش نظر اپنی فوج کو ہائی الرٹ رکھا اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کی تیاری جاری رکھی۔ بعدازاں جمعہ کی شب اسرائیلی حکام کو اطلاع دی گئی کہ صدر ٹرمپ نے مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے روکنے کی ہدایت اس وقت سامنے آئی جب عمان کا ایک اعلیٰ سطح وفد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق ایک نئے انتظام پر مذاکرات کی غرض سے تہران پہنچا۔مذاکرات سے آگاہ دو علاقائی ذرائع کے مطابق بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام تک کسی معاہدے پر اتفاق ہو جائے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد صدر ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اس مجوزہ معاہدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔مزید برآں عراقی فضائی دفاعی نظام نے عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک ڈرون کو مار گرایا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...