بھارت : کاکروچ، جیت گئے، مودی کو بڑی شکست، وزیر تعلیم استعفیٰ دینے پر مجبور

بھارت : کاکروچ، جیت گئے، مودی کو بڑی شکست، وزیر تعلیم استعفیٰ دینے پر مجبور

نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر ہزاروں نوجوان خوشی سے جھوم اٹھے ،مٹھائیاں تقسیم،احتجاج کے خاتمے کا اعلان،ہم نے یہ کر دکھایا:بانی کاکروچ جنتا پارٹی مظاہرین کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو گی:حکومت ،مستعفی ہونے والے وزیر تعلیم دھرمیندر بی جے پی کے سینئر رہنما ہیں،2014 سے مسلسل کابینہ کا حصہ رہے

 نئی دہلی (نیوز ایجنسیاں )بھارت میں ملک گیر احتجاج کے بعد مودی حکومت کو ایک بڑی سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے بھارتی نوجوانوں اور طلبہ کی تحریک کی ایک تاریخی اور بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے ۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھاجنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر، میں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھیج دیا ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور جائز توقعات کا دلی احترام کرتا ہوں۔57 سالہ دھرمیندر پردھان حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما ہیں اور 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔

استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر موجود ہزاروں نوجوان خوشی سے جھوم اٹھے ۔احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ' کاکروچ جنتا پارٹی'(سی جے پی)کے بانی ابھیناو دیپکے نے نعرے بازی کے درمیان اعلان کیا کہ ہم نے یہ کر دکھایا۔مظاہرین نے مٹھائیاں تقسیم کیں، ترانہ گایا اور احتجاج کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان کر دیا۔حکومت کی جانب سے صحت کے وفاقی وزیر جے پی نڈا اور جیوترادتیہ سندھیا نے سی جے پی کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کی، جہاں حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی یا قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کے لیے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا سیاسی اور یوتھ چیلنج ثابت ہوا ۔مئی میں میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا تھا۔دہلی میں پولیس کی جانب سے طلبا پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ نے عوام اور اپوزیشن کو شدید مشتعل کر دیا، جس کے باعث پارلیمنٹ کا اجلاس بھی شدید ہنگامہ آرائی کا شکار رہا۔ 26 دن تک بھوک ہڑتال کرنے والے معروف کارکن سونم وانگ چک نے اس استعفے کو "امن، صبر اور استقلال کی فتح" قرار دیا۔ جب کہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے استعفے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پولیس کے تشدد میں زخمی ہونے والے طلبا کے ذمہ داروں کا بھی احتساب کیا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...