پنجاب میں طوفانی بارشیں، 3 کمسن بہن بھائیوں سمیت 16 افراد جاں بحق، 20 زخمی
گڑھی شاہو لاہور میں چھت گرنے سے میاں بیوی اور بیٹی،گجرات میں 3 بہن بھائی ،قصور میں 2افراد چل بسے علی پور چٹھہ،چنیوٹ کے کئی دیہات زیر آب ، متعددشہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ،آج بھی بارش
لاہور،شیخوپورہ،قصور (کرائم رپورٹر،اپنے کامرس رپورٹر سے ،مانیٹرنگ ڈیسک،نمائندگان دنیا،نیوز ایجنسیاں)پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش سے نظام زندگی درہم برہم، سڑکیں تالاب بن گئیں ،کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ، چھتیں گرنے ، کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں 16افراد جاں بحق، 20سے زائد زخمی ہو گئے ،گڑھی شاہو لاہور میں چھت گرنے سے میاں بیوی بیٹی سمیت دم توڑ گئے ۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں جمعہ کی رات سے شروع طوفانی بارش دن بھر وقفہ وقفہ سے جاری رہی، نشیبی علاقے زیر آب اور بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوا ، لیسکو کے 50 سے زائد فیڈرز بھی ٹرپ کرگئے جس سے ہربنس پورہ،قلعہ گجر سنگھ، شالیمار ،باغبانپورہ، شاہدرہ ،بادامی باغ اوردیگر علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہی ۔
دریں اثناء گڑھی شاہو ریلوے کالونی میں فاروقیہ مسجد کے قریب خستہ حال گھر کی بوسیدہ چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 45 سالہ مبین علوی، اس کی 40 سالہ بیوی نورین اور 11 سالہ بیٹی فاطمہ جاں بحق ،جبکہ ایک 14 سالہ بیٹی ایمل معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔اسی طرح فیروزپور روڈپر شاداب کالونی میں گھر کی چھت گرنے سے 4افراد عمران، عدنان، اعجاز اور حسن ،جبکہ بیدیاں روڈ لدھڑ سٹاپ پر 85 سالہ اسلم ، 20 سالہ احسن اور 45 سالہ ممتاز بی بی زخمی ہوئے ۔ علاوہ ازیں شیخوپورہ کی نواحی آبادی قیام میں چھت گرنے سے 45سالہ بیوہ خاتون بانو جبکہ مرید کے کے علاقہ شریف پورہ راوی ریان کے قریب نالہ ڈیک میں نہاتے 20سالہ نوجوان ابوہریرہ ڈوب کر دم توڑ گیا۔گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے گاؤں مرالی والا میں چھت گرنے سے 70سالہ صفیہ بی بی جاں بحق جبکہ کڑیال روڈ گلزار مدینہ مسجد کے قریب چھت گرنے سے 42 سالہ مشتاق، 40 سالہ یوسف، 14 سالہ انس اور 12 سالہ فرقان زخمی ہو گئے ۔
ننکانہ صاحب میں دھولر چوک کے قریب چھت گرنے سے 13 سالہ قربان اور اس کا 9 سالہ بھائی عدنان ،موڑہ گاؤں میں 60 سالہ جہانگیر زخمی ہوگیا۔ادھر قصور کے علاقہ راجہ جنگ میں10 سالہ سعد اور 12 سالہ احسان گھر کے قریب بارشی پانی سے بھرے جوہڑ میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ،واقعہ پر اہل علاقہ نے انتظامیہ کیخلاف شدید احتجاج کیا ،تحصیل چونیاں میں تلونڈی کے علاقے اڈا ڈھنگ شاہ میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 10سالہ شعیب علی اور 65 سالہ بزرگ محمد نذیر جاں بحق جبکہ3 افراد زخمی ہو گئے ۔ چنیوٹ میں دوران بارش خستہ حال چھت گرنے سے ملبے تلے آکر 45سالہ ستاں بی بی جاں بحق،اس کا 25سالہ بیٹا شہباز اور 22سالہ بہوکرن زخمی ہو گئے ۔گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کی حدود میں شدید بارش کے باعث اسلم بھٹی کے مکان کی چھت گر گئی اور ملبے تلے دب کر اس کی 13 سالہ بیٹی ایمان اسلم، 10 سالہ بیٹاعلی اسلم اور 7 سالہ بیٹا فلک شیر جاں بحق ہو گئے ، اسلم بھٹی کی اہلیہ کچن میں ہونے کی وجہ سے بچ گئی۔
سرگودھا کے نواحی علاقے ربانہ فاروقہ میں محمد رمضان کے مکان کی چھت گر نے سے اس کی40سالہ بیوی نسرین دم توڑ گئی جبکہ رمضان کی 70سالہ والدہ غلام سکینہ شدید زخمی ہو ئی ۔علاوہ ازیں اوکاڑہ کے علاقہ شیر ربانی ٹاؤن میں بارش کے دوران کھمبے میں کرنٹ آنے سے 7 سالہ بچہ سفیان راشد چل بسا۔ تحصیل ڈسکہ میں تھانہ سٹی کے علاقہ عوامی روڈ پر غوثیہ مسجد کے سامنے والی گلی میں کھمبے میں کرنٹ آنے سے راہگیر نوجوان سعید احمددم توڑ گیا ۔بہاولنگر میں سرکلر روڈ پر بارش کے باعث دکان کے شٹر میں کرنٹ آنے سے 60 سالہ شہری عمرجان کی بازی ہارگیا۔ادھر مری میں موسلا دھار بارش کے باعث سیاح پھنس گئے ،جھیکا گلی کے قریب لینڈسلائیڈنگ سے سڑکیں بند ہو گئیں ، آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔مزید برآں دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے علی پورچٹھہ اور گردونواح میں بیلہ کے متعدد دیہات ایک مرتبہ پھر سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ،کئی کچے مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔
دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے ضلع جھنگ اور چنیوٹ کے 40 سے زائد دیہات میں بھی تباہی مچادی ۔ علاوہ ازیں رحیم یار خان کے صدر مقام لیاقت پور کے علاقے بیٹ پرارہ میں بستی بڈا پرارہ کے قریب دریائے چناب کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے زمینی راستے منقطع ،علاقہ مکین گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ شیخوپورہ میں بھی ضلع بھرکے ندی نالے بپھرگئے اورنواحی گاؤں قیام پور کے قریب سیم نالہ اوور فلوکرگیا جس سے 400ایکڑ اراضی زیرآب آ نے سے تیار فصلیں تباہ ہو گئیں،نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث کالاشاہ کاکو کے درجنوں دیہات میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ۔ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں بارشوں کے بعد ندی نالے بپھر گئے ، دریائے سندھ پر کالا باغ، چشمہ اور تونسہ، دریائے چناب میں مرالہ اور تریموں ، دریائے راوی پر بلوکی اور سدھنائی ، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر کم سطح کا سیلاب برقرار ہے ، دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے ۔
گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ملتان، حافظ آباد اور لاہور میں شہری سیلاب کے خطرات کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق نالہ پلکھو میں 4 ہزار 700 کیوسک پانی کی آمد کے باعث اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 11 افراد جاں بحق جبکہ 25 زخمی ہوئے ،جون سے اب تک 97 افراد جان کی بازی ہار چکے ،آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی بارش کا امکان ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عمر عباس نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں بارشوں کے باعث حادثات میں 22 افراد جاں بحق جبکہ 183 زخمی ہو چکے ۔ ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں بارش کے باعث چھت گر نے سے 2 بھائی جاں بحق اور3افراد زخمی ہو ئے ۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بھی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ،کے الیکٹرک کے 100 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے جس سے متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments