حکومت کا پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات 12 سے 13 لاکھ تجویز

حکومت کا پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات 12 سے 13 لاکھ تجویز

10 فیصد ادائیگی پر ابتدائی درخواست، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شکایات کا فوری ازالہ، کوٹہ بدستور 60اور 40 فیصد یہ صرف پالیسی ہی نہیں بنیادی دیرپا اصلاحات کا آغاز ، عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات ملیں گی :سردار یوسف

 اسلام آباد(سید قیصر شاہ) وفاقی حکومت نے پہلی بار آئندہ چار سال کے لئے حج پالیسی کا اعلان کر دیا، جس کے تحت رجسٹریشن، ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ، متعدد حج پیکیجز، مکمل  ڈیجیٹل نظام اور نجی شعبے کے کردار میں مرحلہ وار اضافے کا فیصلہ کیا گیا ،ابتدائی طور پر حج اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز کئے گئے ہیں، تاہم حتمی لاگت میں حالات کے مطابق کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 برقرار رہے گا، جبکہ سرکاری اور نجی حج سکیموں کا کوٹہ بدستور بالترتیب 60 اور 40 فیصد ہوگا۔ تاہم ضرورت پڑنے پر وفاقی کابینہ اس تناسب میں تبدیلی کر سکے گی۔نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ عازمین کو چار سال پہلے تک رجسٹریشن کی سہولت دی جائے گی، جس کے ذریعے وہ اپنی پسند کے سال کے لئے صرف متوقع حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کرا کر درخواست رجسٹر کروا سکیں گے۔

انتخاب مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے ‘‘پہلے آئیں، پہلے پائیں’’ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔حکومت نے رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل سمیت اہم خدمات کے لیے تین سے چار سال تک کے معاہدوں کی گنجائش بھی رکھی ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، خدمات کے معیار میں بہتری اور اخراجات میں کمی ممکن بنائی جا سکے ۔ سرکاری حج سکیم کے تحت مختلف دورانیے کے متعدد حج پیکیجز بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ عازمین اپنی ضرورت اور مالی استطاعت کے مطابق انتخاب کر سکیں، جبکہ رقوم کی وصولی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔پالیسی کے مطابق حج کے تمام مراحل جن میں رجسٹریشن، ادائیگی، نگرانی، شکایات کے ازالے اور بعد از حج جائزہ شامل ہیں، مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام د ئیے جائیں گے ۔

نجی حج کمپنیوں کے لئے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (PHMP) کا استعمال لازمی ہوگا، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیاں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل انجام دیا جائے گا۔حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ وہ براہِ راست حج انتظامات چلانے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت مرحلہ وار بڑھائی جائے گی۔ نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور اضافی کوٹہ ان کی کارکردگی اور مقررہ معیار پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا، جبکہ تمام مالی ادائیگیاں صرف حکومت کے مقررہ بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی تاکہ شفافیت اور مالی تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔پالیسی میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام خریداری اور معاہدے متعلقہ سرکاری قواعد کے مطابق کئے جائیں گے ، جبکہ حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر عازمین کی جمع کرائی گئی رقم میں سے کوئی رقم بچی تو وہ انہیں واپس کر دی جائے گی۔

سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ اور جائزہ بھی لیا جائے گا۔عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل شکایت نظام، مؤثر نگرانی اور اپیل کا باقاعدہ طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔ معاونین حج کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ہوگا، جبکہ تربیتی پروگرام میں مناسک حج، موبائل ایپس کے استعمال، صحت، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے متعلق آگاہی شامل ہوگی۔حجاج محافظ سکیم آئندہ بھی برقرار رہے گی، جس کے تحت دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور خصوصی ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جائے گی۔وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی ہے ، جسے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات اور سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔ ان کے بقول یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ حج انتظامات میں بنیادی اور دیرپا اصلاحات کا آغاز ہے ، جس کا مقصد شفافیت، بہتر منصوبہ بندی، جدید ڈیجیٹل گورننس اور عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...