امریکا کے 9 ایرانی شہروں پر حملے، ایران کا جوابی وار، 3 امریکی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
پاسداران انقلاب کے 3 اہلکاروں سمیت 6 شہید،کویت میں چینی کمپنی کی عمارت نشانہ، ایک کارکن ہلاک،اردن میں الازرق ایئر بیس پر حملہ،کوئی طیارہ تباہ نہیں ہوا:امریکا امریکی فوج نے ناکہ بندی کے دوران مزید 2تجارتی جہاز واپس بھیج دئیے ،ایل این جی بردار قطری جہاز ہرمز عبور کرگیا،آبنائے ہرمز کے انتظام پر عمان سے مذاکرات جاری:بقائی
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے چند روز کے وقفے کے بعد ایران پر پھر حملے کرتے ہوئے 9 شہروں کو نشانہ بنادیا،حملوں میں6افراد شہید ہوگئے ، ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن اور کویت پر جوابی حملے کئے اور 3امریکی ایف35 طیاروں کو مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈ مراکز اور ڈرون تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے مشرقی امریکا کے وقت کے مطابق بدھ کی شام آٹھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے) شروع ہوئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا امریکا ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو محدود کرنے کے اپنے ابتدائی اہداف حاصل کر چکا ہے ۔ایرانی سرکاری میڈیا نے سپاہِ پاسداران کے حوالے سے بتایا کہ جزیرہ قشم میں رہائشی گھر پر امریکی حملے میں تین شہری شہید اور دو بچے زخمی ہوئے ، شہید ہونیوالوں میں ماں باپ اور بچہ شامل ہیں جبکہ صوبہ زنجان میں سپاہِ پاسداران کے تین اہلکار شہید ہوئے ۔جنوب مغربی شہر اہواز میں طلبہ کے دو رہائشی کمپلیکس بھی متاثر ہوئے۔
بندر عباس ،شادگان، اروندکنار، آبادان میں بھی دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔سپاہِ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی زیرِ انتظام الازرق فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اور حملے کے دوران تین امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ، جبکہ مزید تین طیاروں کو شدید نقصان پہنچا۔پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الازرق ایئر بیس پر لڑاکا طیاروں کی تنصیب اور مرمت کے ایک ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی افسراور فنی عملے کے ارکان ہلاک ہوئے ۔جبکہ اردن کی مسلح افواج نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے ایران کے داغے گئے پانچ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دئیے ۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے پاسداران انقلاب کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہاا یرانی حملوں کے دوران امریکی فضائیہ کے کسی بھی طیارے ، بشمول جدید F-35 لڑاکا طیاروں، کو نہ تو تباہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے ایک حملے میں شمالی کویت میں ایک چینی کمپنی کی ملکیت والی عمارت بھی نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں ایک کارکن ہلاک جبکہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔سعودی عرب اور قطر نے اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔عراق میں ایران نواز گروہوں کیخلاف سعودی عرب اور امریکا کی مشترکہ کارروائی کے بعد سعودی وزیرِ دفاع نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی اور ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ تنازع کو مزید وسعت نہ دے ۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے دو ذرائع نے اس ملاقات کی تصدیق کی۔سعودی وزیرِدفاع نے جے ڈی وینس سے کہا کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، سعودی عرب کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہ زیادہ سودمند راستہ ہے۔
انہوں نے کہا حوثیوں کے معاملے پر فی الحال امریکا کی مداخلت کی ضرورت نہیں،حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔مصری کابینہ نے جمعرات کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کے روز ایک نامعلوم ڈرون نے نہرِ سوئز کے قریب واقع دمیاط بندرگاہ پر موجود دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ نہرِ سوئز بحیرۂ روم کو بحیرۂ احمر سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے ۔کابینہ کے مطابق تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔واقعے سے آگاہ تجارتی ذرائع کے مطابق ڈرون حملے کا اصل نشانہ امریکی ملکیت کا گیس ذخیرہ کرنے والا ٹینکراینرگوس ونٹر تھا، جس میں لگنے والی آگ بعدازاں قریب موجود ایک دوسرے جہاز تک پھیل گئی۔
عراق اور مصر میں ہونے والے تازہ حملوں نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مزید ممالک بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں،حوثیوں کے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد لندن کی بحری انشورنس مارکیٹ نے بحیرۂ احمر میں اپنے ہائی رسک زون کو مزید وسیع کر دیا ہے ، جس میں سعودی بندرگاہوں سے ملحقہ ساحلی علاقے بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا، تاہم جمعرات کو اتار چڑھاؤ کے دوران ان میں تقریباً ایک فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم قیمت پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ادھر قطر انرجی کے زیرِ انتظام مائع قدرتی گیس (ایل این جی)بردار ایک جہاز رات کے دوران آبنائے ہرمز عبور کر گیا،11 جولائی کے بعد یہ پہلا ایل این جی بردار جہاز تھا جو اس آبی گزرگاہ سے باہر نکلا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق تہران نے اس جہاز کو گزرنے کی اجازت دی تھی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ مذاکرات بدستور جاری ہیں۔امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جنوبی بندرگاہوں پر دوبارہ عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کے تحت اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے ۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، اس ماہ کے آغاز میں بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد گزشتہ روز تک 18 جہازوں کا رخ موڑا گیا تھا، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 تجارتی جہاز واپس بھیجے گئے ۔سینٹ کام نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا، جبکہ دو دیگر جہازوں پر چڑھ کر تلاشی اور کارروائی بھی کی۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے ۔انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ امریکا پر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے لیے وہ دبا ؤڈال رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments