نئے صوبوں کیلئے ریفرنڈم کا آپشن استعمال کیا جائیگا ؟

 نئے صوبوں کیلئے ریفرنڈم کا آپشن استعمال کیا جائیگا ؟

صدر زرداری کا کراچی میں طویل قیام ان کی ناراضی ظاہر کر تا ہے

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیر داخلہ سید محسن نقوی کا موجودہ سسٹم کو تباہ شدہ کہنا حکومتوں اور سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ وہ سب کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت پر زور دیتے نظر آ رہے ہیں اور نئے صوبوں کے حوالہ سے عوام کے پاس جانے کا ذکر کرتے نظر آ رہے ہیں ۔مطلب کہ اگر نئے صوبوں کا مسئلہ پارلیمنٹ میں طے نہیں ہوتا تو پھر آئین پاکستان کے تحت عوام سے رجوع کرنا ہوگا یعنی ریفرنڈم کے آپشن کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ کراچی میں صدر آصف زرداری سے مل کر اسلام آباد آتے ہیں،تاثر یہ ہے صدر مملکت آصف زرداری کا 5جولائی سے کراچی میں مقیم ہونا ناراضگی ظاہرکرتا ہے ایک طرف صدر زرداری کا کراچی میں قیام اور دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کھل کر حکومت پر برسنا اور فارم 47کی گردان کرنا حکومت کی ساکھ کو متاثرکرتا نظر آ رہا ہے۔

بلوچستان اور پختونخوا کے ابتر حالات کے بعد آزاد کشمیر کی صورتحال میں تناؤ کے بعد سیاسی محاذ پر درجہ حرارت میں تیزی ظاہر کر رہی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔ نئے صوبوں کا قیام گناہ نہیں پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں گورننس کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے نئے صوبوں کا قیام عمل میں آیا ۔چین بھارت سمیت سب کی مثالیں سامنے ہیں لیکن یہاں نئے صوبوں کی تشکیل میں اصل رکاوٹیں بڑی جماعتیں ہیں جو انہیں اپنی سیاست اور اقتدار کے لئے خطرناک سمجھتی ہیں اور کسی قیمت پر اس تجویز پر آمادگی کے لئے تیار نظر نہیں آتیں لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز پر پیش رفت تو پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی ہے۔

اس کے لئے آئینی ترمیم کی کوشش ضرور ہوگی لیکن اگر پیپلز پارٹی نے ا س سے انحراف کیا تو پھر بات ریفرنڈم پر جا سکتی ہے کیونکہ یہ آئینی آپشن ہے ۔لگتاہے کہ گیند اب حکمرانوں اور سیاستدانوں کی کورٹ میں ہے البتہ جہاں تک حکومت کے مستقبل کا سوال ہے تو ا علیٰ سطحی سیاسی و حکومتی حلقوں میں یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ اگر شہباز شریف بھی معاملات نہیں چلا پا رہے تو پھر ان کا متبادل کون ہوگا کیونکہ ان پر تو سب سے زیادہ تنقید یہی ہو رہی ہے کہ وہ سیاسی مفادات سے زیادہ ریاستی مفادات کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں اور اگر وہ بھی کسی کو ہضم نہیں ہو رہے تو پھر شاید ان جیسا متبادل پھر کسی کو نہ مل سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...