آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت ، سادہ اکثریت مل گئی : مخالفین کو کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ، وفاقی وزیراطلاعات ، عوام کے اعتماد کا ثبوت : وزیر اعظم

 آزاد کشمیر  میں ن لیگ کی حکومت ، سادہ اکثریت مل گئی : مخالفین کو کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ، وفاقی وزیراطلاعات ، عوام کے اعتماد کا ثبوت : وزیر اعظم

قانون ساز اسمبلی کی 45 میں سے 23 نشستیں ن لیگ جیت چکی ، نواز شریف اور ان کی پوری ٹیم نے انتہائی کامیاب انتخابی مہم چلائی،یہ انکی محنت کا ثمر ہے ، شہبازشریف سیاسی پوائنٹ سکورنگ معمول کا حصہ ، الزامات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا :عطاتارڑ، دھاندلی کارونا رونے والے صرف 3سیٹیں جیت سکے ،رانا ثنا اللہ،پریس کانفرنس

 اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار ،اے پی پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ(ن)نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے ،انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی نے 3 نشستیں حاصل کیں ،میرپور ڈویژن کی 9اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 نشستوں میں سے 4 پر مسلم لیگ (ن)،3 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ،آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 میں سے 23 نشستوں پر ن لیگ کامیابی حاصل کر چکی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی پر مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ یہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی پوری ٹیم کی محنت کا ثمر ہے ، ن لیگ کے جیتنے والے تمام امیدواروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں،وزیراعظم نے کہاکہ نوازشریف کی قیادت میں پوری ٹیم نے آزاد جموں و کشمیر میں انتہائی کامیاب انتخابی مہم چلائی،یہ کامیابی آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا ن لیگ کی پالیسیوں پر اعتماد کا ثبوت ہیں ،آزاد جموں و کشمیر کی ترقی و خوشحالی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا جس سے جمہوری عمل مزید مضبوط ہو گا،دوسری طرف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مخالفین کو آزاد کشمیر میں ہماری کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ،آ زاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی ہے اور پارٹی کو سادہ اکثریت مل چکی ہے ، سندھ کے وزیر اطلاعات کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر 2024 کے عام انتخابات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو سندھ حکومت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ الزامات لگانے والے اپنے دعوؤں کے شواہد بھی پیش کریں،عطا تارڑ نے کہا کہ جس طرح مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی پر مبارکباد دی تھی، اسی طرح پیپلز پارٹی کو بھی آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر مبارکباد دینی چاہیے ۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ معمول کا حصہ اور سیاست کا لازمی پہلو ہے تاہم الزام برائے الزام کی روش اختیار نہیں کی جانی چاہیے۔

اگر الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ ان کے پاس نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ شواہد ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دھاندلی کا رونا رونے والے میرپور ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن کی صرف 3 نشستوں پر کامیاب رہے ،مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) اور 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ،وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ، آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہوئے ، کشمیر کے عوام نے نواز شریف کے وژن کو ووٹ دیا جس پر کشمیر کی عوام کے شکر گزار ہیں ، آزاد کشمیر کی آنے والی حکومت تمام عوامی مسائل کا حل یقینی بنائے گی، نواز شریف نے آزاد کشمیر کی عوام سے جو وعدے کیے ہیں ن لیگ انہیں پورا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ 10 تاریخ کو انتخابات کے تیسرے مرحلے کے فوری بعد پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا۔

وزیراعظم کے مشیر نے الزام لگایا کہ مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے لوگوں نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ملکر ایک چوک پر ہنگامہ کرایا، پولیس کے پہنچنے پر فائرنگ کی گئی، ایک شخص کی ہلاکت سے شہر میں خوف وہراس پھیلا، ٹرن آئوٹ کم ہونے سے مسلم لیگ ن سٹی کی نشست ہاری، چودھری لطیف اکبر پر قاتلانہ حملے کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا مکے اور گالیوں کو قاتلانہ حملہ قرار دیا گیا، میڈیکل کرانے سے انکار کیا گیا، چودھری لطیف اکبر کے حلقے کو ڈسٹرب کرنے کے لیے انہوں نے پورا زور لگایا، ، دھرنے میں بیٹھے محب وطن اور پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیری مذاکرات کی طرف آئیں،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے میرپور میں شکست کے بعد دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کیا،پیپلز پارٹی پہلے 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگاتی رہی، ثبوت مانگنے پر پیپلز پارٹی کا دھاندلی کا دعویٰ 13 سے 4 حلقوں تک آگیا،مزید شواہد مانگے گئے تو دھاندلی کا دعویٰ صرف 2 حلقوں تک رہ گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...