’’ٹک ٹاک ، ٹک ٹاک‘‘ ن لیگ غور سے سن لے، اسکی الٹی گنتی شروع ہو چکی : بلاول

 ’’ٹک  ٹاک ، ٹک ٹاک‘‘ ن لیگ  غور سے سن لے، اسکی الٹی گنتی شروع ہو چکی : بلاول

یہ دھاندلی ، گولی ،قاتل اورخونیں الیکشن تھے ،مسلم لیگ(ن)کی دھونس دھاندلی ،گولیوں کا مقابلہ کرنے پر غیور کشمیروں کو سلام ،ہم پیچھے نہیں ہٹتے ، پونچھ آرہا ہوں چوری کی سیٹیں واپس دلائوں گا ، حق حاکمیت تحریک کو پورے ملک میں چلاؤں گا:ویڈیو پیغام، آزاد کشمیر الیکشن فارم 47 پلس :شرجیل،34شکایات درج کرادیں:شیری

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ میرا ن لیگ کے دوستوں کیلئے بس اتنا پیغام ہے کہ آپ کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ، آپ کو وہ آواز سنائی دے رہی ہے ؟ ذرا غور سے سنیں ’’ ٹک ٹاک ، ٹک ٹاک ‘‘۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا میں کشمیر کے غیور، غیرت مند اور بہادر عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جس بہادری اور دلیری کے ساتھ آپ نے مسلم لیگ(ن)کی دھونس، دھاندلی اور گولیوں کا مقابلہ کیا ، پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے شہادت قبول کی، ہمارے رکن قومی اسمبلی کے ہاتھ میں گولی لگی، ہمارے ریاست آزاد جموں و کشمیر کے صدر پر حملہ ہوا، مگر آپ ہمت نہیں ہارے ، آپ پیچھے نہیں ہٹے اور آپ نے پوری دنیا کو دکھادیا کہ کیسے پیپلزپارٹی کشمیر کے حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار سمیت عوام کے حقوق کیلئے لڑتی ہے ۔بلاول نے کہا یہ صاف شفاف انتخابات نہیں تھے ، یہ دھاندلی الیکشن تھے ، یہ گولی الیکشن تھے ، یہ قاتل الیکشن تھے ، یہ خونیں الیکشن تھے ، اس سب کے باوجود آپ نے پیپلزپارٹی کو 9 انتخابی نشستوں پر کامیاب کروایا ہے ،میرپور اور مظفرآباد میں جو سیٹیں چوری کی گئی ہیں، وہ میں آپ کو دلواؤں گا،آپ نے 4اگست کو باذل نقوی اور جاوید ایوب کو مظفرآباد سے جتوانا ہے اور مسلم لیگ کی سازش ناکام کرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ 10 اگست کو پونچھ کی باری ہے ، میں پونچھ آرہا ہوں، میں باغ میں جلسہ کروں گا،پیپلزپارٹی ہمت نہیں ہارتی، ہم پیچھے نہیں ہٹتے اور ہم کبھی میدان نہیں چھوڑتے ، آپ اپنی تیاری کریں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار کی جدوجہد جاری رہے گی اور یہ تحریک اب کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑوں تک محدود نہیں رہے گی، حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار کی تحریک کو میں پورے پاکستان میں چلاؤں گا،دریں اثنا بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان کو صوبے کی انتظامی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ دی، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ امجد حسین کو گلگت بلتستان میں گورننس اور ایڈمنسٹریشن کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اورکہا وہ جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنائیں۔ ادھر پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 2024 میں فارم 47 کی بنیاد پر وفاقی حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا، آزاد کشمیر الیکشن فارم 47 پلس کارروائی ہے ، آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان واضح اشتراک موجود تھا جسے عالمی سطح پر بھی دیکھا گیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بھی غیر جانبداری کا دامن چھوڑ کر مسلم لیگ (ن )کے کردار کو اختیار کر لیا اور اس کا رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں رونما ہونے والے واقعات کو ایک بار پھر آزاد کشمیر میں دہرایا گیا، ایسا محسوس ہوا کہ آزاد کشمیر کے انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن مسلم لیگ ن کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کر رہا تھا، اگر 2024 کے انتخابات کے نتائج پر ہی سوالات موجود ہیں تو پھر یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر اعظم شہباز شریف اور میاں نواز شریف اپنی اپنی نشستیں شفاف عمل کے ذریعے جیتے تھے ؟ ۔نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمن نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ دوسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کل 34 شکایات جمع کروائی گئیں،شکایات میں ایل اے 31 میں صدر ریاست لطیف اکبر اور ن لیگ کی طرف سے پی پی پی کارکن مشتاق شاہ کو شہید کرنے کا بھی بتایا گیا،شیری رحمن نے الیکشن کمیشن کو درج کرائی گئیں تمام شکایات کی لسٹ شیئر کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...