بلاک چین صرف کرپٹو کرنسی نہیں، امانت کی ڈیجیٹل شکل ہے :بلال ثاقب
کراچی(سٹاف رپورٹر) سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور سیلانی سکول آف بزنس اینڈ اسلامک لیڈر شپ کے تحت چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ۔
اس موقع پر ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ 16 بینکوں میں سے جن 5 بینکوں نے اسلامی بینکنگ کو اپنانے سے انکار کیا ہے ان بینکوں کو بھی 31 دسمبر 2027 تک اسلامی بینکنگ میں ڈھالا جائے اور کوئی رعایت نہ دی جائے کیونکہ غیر ملکی بینکوں کو پاکستان کے قوانین کی پاسداری کرنی چاہئے ۔وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں کہا کہ انٹرنیٹ نے دنیا کو بدل دیا ہے ۔
بلاک چین اور مصنوعی ذہانت صرف نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ انسان کی پروڈکٹیوٹی کو ری ڈیفائن کررہی ہے ۔ اس وقت اربوں ڈالرز کی ٹرانزیکشن اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ہورہی ہیں اور یہ ایجنٹس ایک دوسرے کی پروڈکٹ اور سروسز خرید رہے ہیں۔یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں ،امانت کی ڈیجیٹل شکل ہے ۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب بھی مصنوعی ذہانت کو ویلیو ایڈ کرنی ہوگی تو وہ فزیکلی جا کر کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھولے گی ،نہ چیک لکھے گی بلکہ کرپٹو میں ٹرانزیکشن کرے گی ۔یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جو اونرشپ کو تحفظ دیتی ہے ،ریکارڈز شفاف بناتی ہے ، فراڈ روکتی ہے ۔ اگر پاکستان میں ہر قسم کی خیرات اور زکوۃ کا پیسہ ڈیجیٹلائز ہوجائے تو شفافیت بڑھ جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments