قائمہ کمیٹی کابینہ کا سرکاری اداروں میں شفافیت ڈیجیٹل اصلاحات پر زور

قائمہ کمیٹی کابینہ کا سرکاری اداروں میں شفافیت ڈیجیٹل اصلاحات پر زور

ایم ڈی او پی ایف کی تقرری کی تفصیل طلب، یوفون سروس تعطل ،ٹیلی نار انضمام پر بریفنگ پاکستان میں فعال سمز 21کروڑ، گھر بیٹھے سم کے اجرا پر کام جاری، ای سم ٹیکنالوجی پر بھی غور

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب، ڈیجیٹل اصلاحات اور مؤثر عوامی خدمات یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔ چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرصدارت اجلاس میں پی ٹی اے ، کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ملک میں فعال سمز کی تعداد 21 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ تنظیمِ نو کے تحت پی ٹی سی ایل اور یوفون کو الگ کیا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد نئی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی قائم ہوگی اور نادرا کے تعاون سے پاک آئی ڈی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے سم جاری کرنے کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ای سم ٹیکنالوجی پر پیش رفت سے متعلق بھی استفسار کیا۔سینیٹر ایمل ولی خان نے او پی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری، مبینہ بھاری تنخواہوں اور اہلیت سے متعلق تحفظات اٹھائے ، جس پر کمیٹی نے تقرری کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔ انہوں نے نیپرا چیئرمین کی عدم حاضری کے باوجود تنخواہ لینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس چار سے پانچ ہفتوں جبکہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس چھ سے آٹھ ہفتوں میں متوقع ہے ۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس سے قبل تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...