پی اے آر سی، 5 افسروں کی تقرریاں کالعدم قراردینے کا نوٹیفکیشن معطل
درخواست گزار طریقہ کار کے تحت بھرتی ہوئے اور اپنی ملازمتوں کا چارج سنبھالا فیصلے سے قبل نوٹس جاری ہوا نہ ہی مؤقف پیش کرنے دیا گیا،وکیل درخواست گزار
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں 5 افسروں کی تقرریاں کالعدم قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو درخواست گزاروں کی حد تک معطل کردیا، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 26 اگست تک ملتوی کردی۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں بھرتیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار 5 افسران کی جانب سے ایڈووکیٹ عاقب حسین عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل نے مختلف اسامیوں کے لیے باقاعدہ درخواستیں طلب کی تھیں۔ درخواست گزاروں نے مقررہ طریقہ کار کے تحت بھرتی کے عمل میں حصہ لیا اور باقاعدہ تقرری کے احکامات جاری ہونے کے بعد اپنی ملازمت کا چارج سنبھالا۔
رواں برس جولائی میں سیکریٹری کونسل نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام تقرریوں کو کالعدم قرار دے دیا، تاہم درخواست گزاروں کو اس فیصلے سے قبل کوئی نوٹس جاری کیا گیا نہ ہی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر بھرتیوں کے عمل میں حکام کی جانب سے کوئی بے ضابطگی ہوئی بھی ہو تو اس کی ذمہ داری ان امیدواروں پر عائد نہیں کی جاسکتی جنہوں نے مقررہ طریقہ کار کے تحت درخواستیں دیں، میرٹ پر کامیاب ہوئے اور باقاعدہ تقرری کے احکامات کے بعد ملازمت کا چارج سنبھالا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سیکریٹری کونسل کی جانب سے تقرریاں کالعدم قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد سیکریٹری پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے نوٹیفکیشن کو پانچوں درخواست گزاروں کی حد تک عبوری طور پر معطل کردیا۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 26 اگست تک ملتوی کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments