آزادکشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ آج،پونچھ ڈویژن کے4حلقوں میں پولنگ ہوگی
2 اضلاع کے انتخابی حلقوں میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرینگے ،82امیدوارمدمقابل سکیورٹی عملہ،پولنگ میٹریل پہنچ گیا، آئندہ سات روز میں راولاکوٹ ،سدھنوتی میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان متوقع
مظفرآباد (دنیا نیوز) آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ آج ہوگا ،باغ کے تین اور حویلی کے ایک انتخابی حلقے میں پولنگ ہوگی ، پونچھ ڈویژن کے 2 اضلاع کے ان 4 انتخابی حلقوں میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے ، مجموعی طور پر 82 امیدوار میدان میں ہیں، ان حلقوں میں ایل اے 14غربی باغ میں مسلم کانفرنس کے سردار عتیق احمد ،عوامی دست وبازوکے ساجد اقبال عباسی، پیپلز پارٹی کے راجہ مبشر اعجاز ، آئی پی پی کے فہیم فاروق اور ن لیگ کے راجہ فیصل آزاد ، ایل اے 15وسطی باغ میں ن لیگ کے راجہ مشتاق منہاس ، پیپلزپارٹی کے سردار ضیا القمر، آئی پی پی کے سردار تنویر الیاس اور جماعت اسلامی کے بریگیڈیئر محمد خان ، ایل اے 16شرقی باغ میں ن لیگ کے سردار میراکبر ، پیپلز پارٹی کے سردار قمرالزمان جبکہ ایل اے 17 حویلی میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، آزاد امیدوار سابق ممبر کشمیر کونسل خواجہ طارق سعید اور مسلم لیگ (ن) کے محسن عزیز مد مقابل ہیں۔
یاد رہے کہ ترجمان الیکشن کمیشن آزاد جموں وکشمیر کے مطابق ضلع باغ اور حویلی میں انتخابی مہم گزشتہ رات 12 بجے ختم ہوچکی ہے ، انتخابی مہم کے مقررہ وقت کے اختتام کے بعد ہر قسم کی انتخابی سرگرمی پر پابندی ہے ۔آزاد جموں وکشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث باغ اور حویلی کی چار نشستوں پر پہلے انتخابی عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اگلے سات روز میں راولاکوٹ اور سدھنوتی کے لئے انتخابی تاریخ کا اعلان کیا جا سکتا ہے ، تاہم امیدواروں کو انتخابی مہم کیلئے مناسب وقت دینا ہوگا۔ باغ اور حویلی میں آج ہونے والی پولنگ نہ صرف ان حلقوں کے امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورت حال اور حکومت سازی کے آئندہ مرحلے پر بھی اس کے براہ راست اثرات مرتب ہوں گے ۔ 45 رکنی ایوان میں حکومت سازی کے لئے درکار عددی اکثریت کے تناظر میں تیسرے مرحلے کے نتائج پر سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ ابتدائی دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کی برتری کے باوجود آخری مرحلے کے نتائج کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے ، تاہم تیسرے مرحلے کے نتائج کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں مزید تیز ہوں گی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments