صوبوں کے موجودہ حجم کو کنٹرول کرنا ناممکن ، نئے انتظامی یونٹس سے عوام کی زندگی آسان : پالیسی ورکشاپ میں شرکا کا خطاب
سالانہ11ہزار پاکستانی مائیں دوران زچگی مر جاتیں، ترقی یافتہ ممالک میں شرح ایک فیصد بھی نہیں ، وسائل عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے :مصطفی کمال ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے کی مخالف ،انتظامی بنیادوں پر حامی :آسیہ اسحاق،نئے صوبوں کی تجویز پارلیمان میں آنی چاہیے :بیرسٹر دانیال چودھری عام آدمی کو عدل و انصاف میسر نہیں :ندیم افضل، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس ہے :بیرسٹرسیف،قومی ترجیحات پرڈائیلاگ ہوناچاہئے :لیاقت بلوچ ہندوستان میں 2.5ملین عوامی نمائندے ،پاکستان میں تعداد1170، بلدیاتی اداروں کے بعدیہ1لاکھ 20ہزار ہوجائینگے :خاقان نجیب ،محمد مالک ،عابد سلہری
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان کے مزید انتظامی یونٹس بنانے کے موضوع پر گزشتہ روز اسلام آباد میں پالیسی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ایک روزہ ورکشاپ میں سیاست دانوں، ٹیکنوکریٹس، ماہرینِ معاشیات اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔ تمام شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ موجودہ نظام عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ہے اور عام پاکستانی کو اس کے حقوق نہیں مل رہے ،صوبوں کے موجودہ حجم کوکنٹرول کرنا ناممکن ہے ،نئے انتظامی یونٹس سے عوام کی زندگی آسان ہوجائیگی۔ ورکشاپ سے دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے بھی خطاب کیا۔ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ملک لوگوں سے بنتا ہے ، عوام کی فلاح کی بات کرنا ہوگی، ہم عوام کی بات کر رہے ہیں نہ کہ سرحدوں کی بنیاد پر تقسیم کی بات کر رہے ہیں۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ نظام میں لوگوں کی فلاح نہیں ہو رہی،نئے انتظامی یونٹس بننے کا سب سے زیادہ فائدہ سندھ اور بلوچستان کے عوام کو ہوگا اور انکی آمدن بڑھے گی۔ میاں عامر محمود نے تجویز دی کہ انتظامی باؤنڈریز کی بنیاد پر نئے یونٹس ڈیکلیئر کیے جائیں اور ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائے ، اس نظام کے لانے سے اخراجات میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوگی۔
ڈویژن کی سطح پر صوبے بننے سے 40 ہزار سرکاری ملازمتوں کا بوجھ کم ہو جائے گا، جبکہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے سالانہ 350 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے زیرِ انتظام 60 ہزار سکول ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت ان سب کو ایک ساتھ چلا سکے ۔ سسٹم اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اسے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ جذباتی نعروں کے بجائے حقائق پر بات کی جائے اور ڈویژن کی سطح پر صوبے بنائے جائیں۔ میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ پاکستان میں عوامی نمائندوں کی تنخواہیں اور مراعات خطے میں سب سے زیادہ ہو گئی ہیں، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات پاکستان میں 3500 ڈالر ماہانہ سے زائد ہیں، یہ شرح نیپال، ہندوستان اور سری لنکا سے زیادہ ہے ۔ موجودہ نظام میں ہر بچے تک ویکسین جیسا بنیادی حق بھی نہیں پہنچ رہا۔ پنجاب میں 80 فیصد بچوں کو ویکسین مل رہی ہے ، بلوچستان میں 30 فیصد سے کم بچوں کو ویکسین مہیا ہے ، جبکہ سندھ میں 49 فیصد بچوں کو ویکسین مل رہی ہے ۔ ڈویژنز کو اگر صوبوں کا درجہ دیا جائے تو بلوچستان اور سندھ کے عوام کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ساڑھے 26 کروڑ ہو گئی ہے ، 2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہوگا، ہمارے پاس این ایف سی کا فارمولا تو ہے لیکن پی ایف سی کا نہیں، اور عام آدمی تک وسائل نہیں پہنچ رہے۔
پاکستان میں ہر سال 11 ہزار مائیں بچے پیدا کرتے وقت مر جاتی ہیں، یہ کوئی بیماری نہیں ہے ، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک فیصد بھی نہیں ہے ۔ پاکستان میں ہر سال 4 لاکھ بچے جن کی عمر ایک سال سے پانچ سال تک ہوتی ہے ، وفات پا جاتے ہیں۔ وسائل کو عام آدمی تک پہنچانا ہوگا جس سے مسائل حل ہوں گے ۔ ورکشاپ سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی ایم این اے آسیہ اسحاق نے کہا ایم کیو ایم لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے کی مخالف ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی حامی ہے ۔ ڈیم کا مسئلہ ہو یا نہروں کا، ہر چیز کو سیاسی بنا کر حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں، نظام چلانا ہے تو نئے صوبے بنانے ہوں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ نئے یونٹس بنانے سے قبل فنانشل فزیبلٹی بنانی چاہیے ، ملک میں مقامی حکومت کا نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ، نئے صوبوں کی تجویز پارلیمان میں آنی چاہیے اور اس پر سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے ۔ ورکشاپ میں دیگر افراد نے بھی شرکت کی، جبکہ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ مقررین نے کہا کہ صوبوں کے قیام کا معاملہ آئینی طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
میاں عامر محمود نے کہا سیاسی جماعتوں کے نمائندے یہاں آکر نئے صوبوں کے بجائے لوکل گورنمنٹ کے نظام کی بات تو کررہے ہیں مگر یہ جماعتیں لوکل گورنمنٹ انتخابات نہیں کرواتیں۔ پیپلز پارٹی نے ندیم افضل چن نے کہا عام آدمی کو عدل و انصاف میسر نہیں ۔ بیرسٹر سیف کاکہنا تھاصوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو فنڈز اور اختیارات منتقل نہیں کرتیں تاکہ ان کے اپنے اختیارات میں کمی نہ ہوں، ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے ۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے کہاکہ نئے صوبے بننا آئین کے متصادم نہیں ہے ، قومی سطح پر قومی ترجیحات کا ڈائیلاگ ہونا چاہیے ۔ ماہر معیشت خاقان نجیب نے کہا پاکستان کے عوام کو 1170 نمائندے ریپرزنٹ کرتے ہیں جبکہ ہندوستان میں یہ تعداد 2.5 ملین ہے ،پاکستان میں اگر بلدیاتی ادارے ہونگے تو 1 لاکھ 20 ہزار تک نمائندے ہونگے جو عوام کی نمائندگی کرینگے ۔ سینئرصحافی محمد مالک نے کہا کہ لسانی بنیادوں پر صوبے بننے لگے تو یہ معاملہ رکے گا نہیں ،اس کا واحد حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کے عابد سلہری کا کہنا تھا یہاں آنے والے تمام شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بحال کیا جائے ، اس طرح کی ورکشاپس اور مباحثوں کا مزید انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ نظام کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments