ایران پر اقتصادی دباؤ جاری، سخت کارروائی بھی آپشن ہے، ٹرمپ
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف تین حکمت عملیاں اختیار کی گئی ہیں، جن میں مذاکرات بھی شامل ہیں، جبکہ ایران پر اقتصادی دباؤ پہلے ہی جاری ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا بنیادی مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اسی طرح کمزور کرتے رہیں تو وہ ناکام ہوجائے گا، ان کے بقول ایران اقتصادی طور پر تباہ حال ہے، رقم ادھار لینے کے قابل نہیں اور ایران کے پاس موجود رقم پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہ ایران کے بینکر ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران میں افراط زر 300 فیصد ہے اور ملکی کرنسی تقریباً بے قدر ہوچکی ہے، جبکہ ایران اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہا اور فوجی فوج چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں مزید کم ہوتی نظر آئیں گی۔
ایرانی مذاکرات سے متعلق امریکی صدر نے کہا کہ ایران بہت چالاک مذاکرات کار ہے اور معاہدے پر رضامندی کے بعد انکار کردیتا ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے کو ایران کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اوباما کا جوہری معاہدہ ختم نہ کرتے تو ایران پانچ سال پہلے ہی ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کو نشانہ بنایا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments