میر رضا کیس میں سفاک درندوں کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں: جبران ناصر

کراچی :(دنیا نیوز) میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ سفاک درندوں کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

کراچی میں میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کیس میں آج مزید تلخ اور اہم حقائق سامنے آئے ہیں، میر رضا کی لاش اور شرٹ کے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسے گولی ماری گئی۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کو تیزاب سے نہلایا گیا، جس کے باعث لاش کو نقصان پہنچا، خدشہ ہے کہ میر رضا کو تیزاب پلایا بھی گیا، ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے لیے گئے نمونوں کی رپورٹ ان کے پاس موجود ہے، جبکہ میر رضا کی شرٹ کے پچھلے حصے سے گن پاؤڈر بھی برآمد ہوا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ 28 تاریخ کو شام 7 سے 8 بجے تک میر رضا زندہ تھا، جبکہ موت سے قبل اسے تقریباً 12 گھنٹے اغوا کاروں نے قید میں رکھا، قتل سے پہلے میر رضا کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: مقتول کی کیمیائی رپورٹ میں اہم انکشافات

جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں سفاک اور تجربہ کار جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں اور ممکن ہے وہ دیگر افراد کو بھی ڈرا دھمکا رہے ہوں، حقائق عوام کے سامنے لانا ضروری ہے اور سفاک ملزمان کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی سمارٹ واچ سوئم کے روز اہلخانہ سے لی گئی تھی، تاہم گزشتہ 8 روز سے ایس ایس پی ایس آئی یو سمارٹ واچ اپنی جیب میں لے کر گھوم رہے ہیں، ان کے بقول سمارٹ واچ کی وصولی کا کوئی میمو بھی نہیں بنایا گیا۔

جبران ناصر نے ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ پر سنگین مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ روز لاشیں اٹھتی ہیں تو متعلقہ حکام کو یہ معلوم کیوں نہیں ہوا کہ لاش پر تیزاب ڈالا گیا تھا، انہوں نے تمام حقائق عوام کے سامنے لانے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...