ایک صدی بعد چیتے کے نقش و نگار والی جنگلی بلی کی نئی نوع دریافت
لاپاز: (ویب ڈیسک) بولیویا سے تعلق رکھنے والے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ سائنس دانوں نے ایک صدی سے بھی زائد عرصے میں پہلی مرتبہ جنگلی بلی کی ایک بالکل نئی نوع دریافت کر لی ہے۔
چیتے جیسے چتکبرے کوٹ والی یہ چھوٹی جنگلی بلی جسے تلکائیو ٹائیگر کیٹ کا نام دیا گیا ہے، بولیویا کے دارالحکومت لاپاز کے قریب یونگاس کے پہاڑی علاقے سے دریافت ہوئی ہے۔
تحقیقی ٹیم میں شامل بائیولوجسٹ اور نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر پاولا نوگالیس اسکارونز کے مطابق بولیویا کے اینڈیز پہاڑی سلسلے میں مقیم مقامی لوگ اس مخلوق کو عام گھریلو بلی سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے تھے۔
مقامی لوگوں کی جانب سے اس جانور کو دیے گئے نام تلکائیو کی مناسبت سے ہی اس کا نیا سائنسی نام لیپارڈس تلکایو رکھا گیا ہے۔
پاولا نوگالیس نے اس دریافت کو ایک حیران کن اور غیر معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شاندار پیش رفت ہے کیونکہ گزشتہ 100 سالوں میں جنگلی بلی کی کوئی نئی نوع سامنے نہیں آئی تھی، یہ 1923 میں دریافت ہونے والی یوراگوئین پیمپاس کیٹ کے بعد دریافت ہونے والی پہلی نئی جنگلی بلی ہے۔

تلکائیو عام گھریلو بلی سے سائز میں قدرے چھوٹی ہے جس کی لمبائی تقریباً 45 سینٹی میٹر ہے اور اس کے کان گولائی میں ہیں، پاولا نوگالیس کے مطابق اب تک اس نوع کے جو دو جانور ملے ہیں، ان کے پورے جینوم کی جدید جینیاتی جانچ کی جا چکی ہے۔
ان میں سے ایک نر تلکائیو اس وقت یونگاس کی ایک اینمل شیلٹر میں موجود ہے جسے ایک مقامی خاندان نے پالنے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کیا تھا جبکہ دوسری مادہ تلکائیو کو مقامی افراد کے حملے سے بچا کر دوبارہ جنگل میں آزاد کر دیا گیا تھا۔
اس نئی نوع پر ہونے والی تحقیق سائنسی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے جو سائنس دانوں کی 2021 سے جاری محنت کا نتیجہ ہے۔
پاولا نوگالیس نے بتایا کہ اب تک یہ نایاب بلی صرف بولیویا میں ہی دیکھی گئی ہے اور کرۂ ارض پر کسی دوسرے مقام سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا، فی الوقت اس جانور کو نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار درجے میں رکھا گیا ہے تاہم ان کی محدود تعداد کا مطلب ہے کہ جلد ہی انہیں نایاب ترین اور شدید خطرے میں گھری مخلوق قرار دیا جا سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments