گڈز ٹرانسپورٹرز ہڑتال کا چوتھا روز ، اشیا کی قلت ، پٹرولیم ڈیلرز کا بھی الٹی میٹم
سپلائی معطل،اشیاء مہنگی ہونیکا خدشہ، علیم خان کی زیر صدارت اجلاس،مذاکرات کامیاب ، مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ احتجاج کے ایشو پر ٹرانسپورٹرز تنظیمیں منقسم،پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کو مطالبات منظوری کیلئے 72 گھنٹے کا وقت دیدیا
لاہور، اسلام آباد،کراچی(شیخ زین العابدین، نیوز رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی، اشیاء کی ترسیل رکنے کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ،دوسری طرف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے درمیان اسلام آباد میں جاری دو روزہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ،اس دوران مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ ادھر پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیلرز مارجن 8 فیصد کرنے سمیت اپنے پانچ نکاتی مطالبات پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیدیا اور مطالبات نہ ماننے پر 15 اگست سے ملک بھر میں پٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال منگل کے روز بھی جا ری رہی،اس بار گڈز ٹرانسپورٹ اور منی مزدا ایسوسی ایشن حکومتی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ،گڈز ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر گاڑیاں کھڑی رہیں، جس کے باعث سامان کی ترسیل کا سلسلہ متاثر ہوا ، رحیم یارخان میں گذزٹرانسپورٹ مالکان کی ہڑتال کے باعث قومی شاہراہ پر 70فیصد سے زائدگڈزٹرانسپورٹ غائب رہی ،پہیہ جام سے اشیا کی فراہمی چار روزسے تعطل کاشکارہے۔
جس کے باعث اشیا ئے خورونوش کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہاہے ۔ علاوہ ازیں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال میں ماضی کے برعکس ٹرانسپورٹرز کی تمام تنظیمیں شریک نہیں ہوئیں اور ٹرانسپورٹرز دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ، پبلک اور کارگو ٹرانسپورٹ نے ہڑتال سے لاتعلقی اختیار کئے رکھا ، پبلک اور کارگو ٹرانسپورٹ کی سروسز جاری ہیں۔گزشتہ روز کراچی میں آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد نے بھی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے کہا کہ وہ 14 اگست کے بعد مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے ، اتحاد کے سربراہ لیاقت محسود نے پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا اتحاد موجودہ ہڑتال میں شامل نہیں ، آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد میں ہیوی ٹرانسپورٹ، باڈی ٹرک، بوٹن سوٹ، ملز، ڈمپر اور واٹر ٹینکرز سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ ٹرانسپورٹرز شامل ہیں۔ ادھروفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے درمیان اسلام آباد میں جاری دو روزہ مذاکرات میں وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انوار نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،اس موقع پر وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے ، آئی جی موٹروے پولیس، کسٹمز سمیت دیگر حکام ،آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کی نمائندگی ملک شہزاد اعوان، ناصر جعفری، اویس چودھری ، قمر الزمان، بختاور خان اور شبر ملک و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے ہدایت کی کہ کسٹم حکام اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی ۔عبدالعلیم خان نے تمام موٹرویز پر کم سے کم ہیومن ریسورس والے جدید (سٹیٹ آف دی آرٹ)ویٹ سٹیشنز بنانے کا اعلان کیا اور ٹرانسپورٹرز کو شکایات جلد دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں ایکسل لوڈ کے مسئلے کو یونیفارم پالیسی کے تحت بنیاد سے ہی کنٹرول کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔وزارت کے سینئر حکام نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین پر ٹرانسپورٹرز کو بریفنگ اور یقین دہانیاں کروائیں جبکہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے ٹرانسپورٹرز کی تجاویز پر مشاورت مکمل کی۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے وفد نے تمام امور احسن انداز میں نمٹانے پر وفاقی وزیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سے اظہار تشکر کیا۔ دریں اثناء پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے وائس چیئرمین انور کمال، امیر خان، طارق حسن و دیگر عہدیداروں کے ہمراہ گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے کہا کہ حکومت کو پہلے دو ہفتوں کی مہلت دی تھی اور مہلت کے بعد حکومت کو بذریعہ خط مطلع کیا کہ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ، مطالبات پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو 72 گھنٹے کا وقت دیتے ہیں،مطالبات نہ ماننے پر 15 اگست سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے پٹرول پمپس بند کر دینگے ۔وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ 72 گھنٹوں کی مہلت ہفتہ 15اگست کی صبح 6 بجے ختم ہوجائے گی، حکومت ڈیلر کمیشن، 24گھنٹے پرائس میکنزم میں تبدیلی، کمپنی الاٹمنٹ پالیسی جیسے مسائل حل کرے بصورت دیگر ملک بھر کے پٹرول پمپس بند کر دینگے ۔ حاجی امیر خان نے کہا کہ اگر پٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن ہمارے ساتھ شامل ہو تو منع نہیں کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments