رکن اسمبلی سے تلخ کلامی، سہیل سکھیرا استحقاق کمیٹی میں پیش

رکن اسمبلی سے تلخ کلامی، سہیل سکھیرا استحقاق کمیٹی میں پیش

آر پی او نے کس قانون کے تحت کہا وہ جوابدہ نہیں؟ :غضنفر عباس چھینہ رکن کی تکریم کا پورا خیال رکھا:سہیل سکھیرا، کارروائی مزید غور کیلئے ملتوی

لاہور(سیاسی نمائندہ)رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ کی تحریک استحقاق پر آر پی او فیصل آباد سہیل سکھیرا پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں پیش ہوگئے ، اجلاس میں رکن اسمبلی اور آر پی او میں تلخ کلامی اور مبینہ ناروا رویے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ غضنفر عباس چھینہ نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ جھنگ میں قتل کے ایک معاملے کے حوالے سے آر پی او  فیصل آباد کی کھلی کچہری پیش ہوئے ، جہاں مجھے آر پی او صاحب نے بڑے ناروا رویے سے کہا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں،میں صرف یہ جواب چاہتا ہوں، آر پی او نے کس قانون کے تحت کہا وہ جوابدہ نہیں ۔جواب میں سہیل سکھیرا نے مؤقف اختیار کیا کہ رکن اسمبلی سرگودھا سے ہیں اور جھنگ میں قتل کے معاملے کو لے کر آئے ،میں تو ہر شخص کو جوابدہ ہوں، رکن کی دل آزاری مقصد نہیں تھا۔

آر پی او نے کہا کہ رکن اسمبلی نے کچھ باتیں بہت غصے میں کیں اور جس ویڈیو کا مطالبہ کیا جا رہا تھا وہ ان کے پاس نہیں تھی،رکن اسمبلی کی تکریم کا پورا خیال رکھا۔غضنفر عباس چھینہ نے معاملے کو بیوروکریسی کے رویے سے جوڑتے کہا کہ سسٹم کے فیل ہونے پر سیاستدان کو قصوروار قرار دیا جاتا ہے جبکہ اصل سسٹم فیلیر بیوروکریسی کا مبینہ رویہ ہے ۔ انہوں نے آر پی او سہیل سکھیرا کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا ذکر کیا توچیئرمین استحقاق کمیٹی سمیع اللہ خان نے ٹک ٹاکر کا لفظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی رکن امجد علی جاوید نے کہا کہ جب کرسی کا نشہ ہو تو ایسی باتیں ہو جاتی ہیں، آر پی او کے تحریری جواب سے ثابت ہو رہا ہے ۔رکن اسمبلی ملک آصف نے کہا کہ معاملہ فریقین کو آپس میں بیٹھ کر حل کرنا چاہیے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کارروائی مزید غور اور معاملے کے حل کیلئے ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...