بحری آمدورفت کا تحفظ،سعودی عرب کی مدد کیلئے تیار ہیں:پاکستان
غیر جنگی تجارتی جہاز پر حملے بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت کیلئے سنگین خطرہ:اسحاق ڈار،سعودی بحری اتحاد کے اعلامیہ پر عمل کرینگے ،مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کیلئے کھلا:طاہر حسین اندرابی خلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران حل کیلئے مسلسل سفارتی رابطے جاری، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کوشاں ہیں،آزادکشمیر میں احتجاج پر بھارتی الزامات بے بنیاد:ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد (وقائع نگار)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے میں تین پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے آزادانہ بحری آمدورفت کیلئے سنگین خطرہ قراردے دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا بحری آمدو رفت کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کی مدد کیلئے تیارہیں،پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کے اعلامیے کا دستخط کنندہ ہے اور اس پر عمل کرے گا جبکہ مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کیلئے کھلا ہے ۔اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا پاکستان غیر فوجی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ایسے حملے بے گناہ جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور بحری آمدورفت کی آزادی، سمندری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازرانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔بحری جہاز پر حملے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق ہو ئے ،ایک زخمی ہوا ، مزید تفصیلات کیلئے پاکستان متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے ۔
اسحاق ڈار نے ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو متعلقہ حکام سے فوری رابطے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ سفارتخانہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں واپس لانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے ، زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے ۔دفتر خارجہ ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا مکہ مشترکہ دفاعی معاہد تینوں ممالک کے اجتماعی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور خطے سمیت دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے ۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات اور سٹریٹجک روابط کا فطری تسلسل ہے اور علاقائی امن و سلامتی کی ذمہ داری مشترکہ طور پر اٹھانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے ۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور رکن ممالک کو درپیش خطرات اور سلامتی کے چیلنجز کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ معاہدہ دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں کہ مستقبل میں کون سے مخصوص ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف تینوں ممالک نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے ۔چین اور امریکا کو معاہدے سے قبل اعتماد میں لینے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ سفارتی تبادلوں کا معاملہ ہے اور وہ کسی مخصوص رابطے سے آگاہ نہیں، تاہم چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے رابطے اور مذاکرات کے ذرائع کھلے ہیں۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کے تجارتی بحری جہاز پر حملے کی مذمت کرتے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کے اعلامیے کا دستخط کنندہ ہے اور اس پر عمل کرے گا۔ پاکستان عالمی سپلائی چین اور بحری ٹریفک کی سلامتی کے تحفظ کیلئے سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے ۔ پاکستان خلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کیلئے مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار کی ہے ۔ پاکستان براہ راست اور بالواسطہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے امن مخالف عناصر کی کوششوں کو ناکام بنانے اور تعمیری مذاکرات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ترجمان نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں جہاں وہ اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی سے متعلق امور اور علاقائی صورتحال، بالخصوص امن، استحکام اور تعمیری روابط کے فروغ پر بات چیت کی جا رہی ہے ۔انہوں نے ایرانی قیادت کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا پیغام لے جانے کی تصدیق کرتے کہا کہ پیغام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی، تاہم یہ بنیادی طور پر پاکستان کی امن کوششوں کے تناظر میں ہے ۔
ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی امید کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ثالث اور مذاکرات کے سہولت کار کی حیثیت سے پاکستان پرامید ہے کہ حل تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ تنازعات میں اکثر کشیدگی کے بعد مذاکرات کا مرحلہ آتا ہے ۔ پاکستان کشیدگی میں اضافے سے پرفریقین کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے تنازعات کے حل کی کوشش کرتا ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے اور انکے دوروں کی توقع ہے ۔اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی موجودہ حیثیت بارے ترجمان نے کہا کہ یہ جاری بحران کے تناظر میں دستخط شدہ معاہدہ،مفاہمتی یادداشت ہے ۔ اگرچہ اس پر خاص طور پر پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کے تناظر میں مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، تاہم جب بھی فریقین کشیدگی کے راستے کی منطق کو ختم کرتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت کو ترجیح دیں گے تو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے لیے قابل عمل خاکہ فراہم کرتی ہے ۔بھارتی وزارت خارجہ کے آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاج بارے بیان پر ترجمان نے اسے مسترد کرتے کہا کہ بھارت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق بھارت کے دعوے ناقابل اعتبار ہیں کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، من مانی گرفتاریوں، سیاسی آزادیوں کو دبانے اور سخت قوانین کے تحت سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات دینے کا ریکارڈ موجود ہے ۔
کہ بھارت کو آزاد کشمیر سے متعلق بیانات دینے کی بجائے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنا چاہیے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان 67 ممالک میں شامل ہے جو امریکی محکمہ خارجہ کے مقرر کردہ کم از کم معیار پر پورا نہیں اترے ۔ پاکستان مالی شفافیت، بجٹ سازی اور مالیاتی معلومات کے افشا کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طریقہ کار پر عمل کرتا ہے ، تاہم اسے اپنے آئینی، قانونی اور انتظامی فریم ورک کی بھی پابندی کرنا ہوتی ہے ۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے ، جسکا مقصد ساختی اصلاحات اور مالیاتی انتظام کو بہتر بنانا ہے ۔ پاکستان آئی ایم ایف کے تین جائزے کامیابی سے مکمل کر چکا ہے جبکہ اصلاحاتی عمل کو عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور آئی ایم ایف کی جانب سے سراہا گیا ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ 6 اگست کو ویلنگٹن میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیاسی مشاورت کے پانچویں دور اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا تیسر اجلاس ہواجسکا اہم نتیجہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلیمی تعاون کے انتظام پر دستخط تھے ، جسکا مقصد دونوں ممالک کے تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments