او سی اے سی کا بھی پرافٹ مارجن بڑھانے کیلئے حکومت سے رجوع

او سی اے سی کا بھی پرافٹ مارجن بڑھانے کیلئے حکومت سے رجوع

حکومت مارجن میں فوری نظرثانی اور درپیش مالی دباؤ کم کرے ، ناظر عباس زیدی

کراچی (رپورٹ:محمد حمزہ گیلانی) پٹرولیم ڈیلرز کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)نے بھی پرافٹ مارجن میں اضافے کے لیے حکومت سے رجوع کرلیا۔ او سی اے سی نے وزیر پٹرولیم سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فی لٹر پرافٹ مارجن میں فوری نظرثانی اور اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیوں کو گزشتہ کئی برس سے بڑھتے مالی اور ریگولیٹری بوجھ کا سامنا ہے جبکہ مارجن میں مناسب اضافہ نہ ہونے سے کاروباری مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ او سی اے سی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں گزشتہ تین سال سے پرافٹ مارجن میں اضافے کے معاملے پر وزیر پٹرولیم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کررہی ہیں، تاہم اس دیرینہ معاملے پر تاحال حتمی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ تنظیم نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں فوری نظرثانی کرکے انہیں درپیش مالی دباؤ کم کیا جائے۔

دنیا نیوز سے گفتگو کرتے او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل ناظر عباس زیدی نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا موجودہ فی لٹر پرافٹ مارجن 7 روپے 87 پیسے ہے جو کمپنیوں کو درپیش بڑھتے اخراجات اور ذمہ داریوں کے مقابلے میں ناکافی ہے ۔ ان کا کہنا تھا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پرافٹ مارجن میں کم از کم 2روپے 23 پیسے فی لٹر اضافہ کیا جانا چاہیے ، وفاقی وزیر پٹرولیم کی جانب سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں 1 روپے 22 پیسے فی لٹر اضافے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، تاہم اس حوالے سے حتمی منظوری کا انتظار گزشتہ تین برس سے ہورہا ہے ۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ اور واحد تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ یقین دہانی کے مطابق فی لٹر پڑولیم مصنوعات پر پرافٹ مارجن میں اضافے کا فیصلہ اب جلد کیا جائے۔ انہوں نے کہا آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور سپلائی چین برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں، لیکن بڑھتے مالی اخراجات، ریگولیٹری تقاضوں اور دیگر کاروباری ذمہ داریوں کے باعث کمپنیوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ناظر عباس زیدی نے کہا او سی اے سی سے وابستہ ملٹی نیشنل آئل انویسٹرز بھی مختلف مسائل کا سامنا کررہے ہیں،اس لیے پرافٹ مارجن میں مناسب اور بروقت نظرثانی نہ صرف کمپنیوں کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے ماحول اور توانائی کے شعبے کے استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے فیصلے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کا معاملہ بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل اور مؤثر سپلائی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال رکھا جاسکے، پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے مارجن میں اضافے کی منظوری کے بعد او سی اے سی کی جانب سے بھی مارجن میں اضافے کا معاملہ سامنے آنے سے پٹرولیم شعبے میں حکومت کے لیے ایک نیا پالیسی چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...