ٹرمپ کی اپنے اتحادی عمان پر حملے کی دھمکی ، دوسرے اتحادی جنوبی کوریا وے دوری

 ٹرمپ کی اپنے اتحادی عمان پر حملے کی دھمکی ، دوسرے اتحادی جنوبی کوریا وے دوری

ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر جنوبی کوریا کیساتھ فوجی مشقیں محدود کرنیکا حکم، ہرمز کے معاملے پرامریکی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی تو عمان پر شدید بمباری کرسکتے : امریکی صدر تہران کا جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ،عراقی کردستان کا وزیراعظم آفس ایرانی ڈرونز کا نشانہ بن گیا،حوثیوں کا سعودی فوجی جہاز اور 4کشتیوں پر میزائل حملے کا دعویٰ،تیل معمولی سستا

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی ایک اتحادی عمان پر حملے کی دھمکی دے دی جبکہ دوسرے اتحادی جنوبی کوریا سے دوری اختیارکرتے ہوئے اس کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنیکا حکم دے دیا ۔ دوسری جانب ایران نے اپنی پالیسی دفاعی سے تبدیل کرکے مکمل طور پر جارحانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ بندی کی 60 روزہ میعاد ختم ہونے پر پالیسی بیان میں کہا اگر عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو امریکا عمان پر شدید بمباری کرسکتا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر عمان راستے میں آیا تو امریکا اسے بُری طرح بمباری کا نشانہ  بنائے گا۔ امریکی صدر نے ایران سے ایک بار پھر ہتھیار ڈال کر امن کی علامت سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت اچھے پوکر کھلاڑی ہیں تاہم ان کے بقول ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے پر انہوں نے کہا ایران کے معاملے میں کوئی مقررہ ٹائم ٹیبل نہیں اور وہ جلد بازی میں بھی نہیں ہیں البتہ بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست پسِ پردہ رابطے میں راستہ قائم کرلیا ہے۔

پیر کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: نمبر ایک مقصد یہ ہے ، اور ہمیشہ رہے گا، کہ ایران کسی بھی طرح، کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے ۔ایران جنگ میں پیٹریاٹ میزائل اور ٹوما ہاکس جیسے جدید ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ختم ہوجانے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکاکا صرف مونگ پھلی کے دانے جتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے ۔امریکی صدر نے ایران کے خلاف عدم معاونت پر جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم دے دیا۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اس نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد سے انکار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ان کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ان کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ رواں ہفتے شروع ہونے والی فوجی مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو بھی نامناسب بلکہ دشمنی پر مبنی پیغام دیتی ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران نہ صرف شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریز کرتا رہا بلکہ احترام کا مظاہرہ بھی کرتا رہا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چونکہ مشقوں کو کینسل نہیں کیا جا سکتا اس لیے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ان میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہوں مگر انہوں نے جواب میں نہیں اور شکریہ کہاتھا۔ 11روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے شریک ہونا ہے اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں فوج کو مضبوط کرنا ہے ۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے باعث ایران نے اپنی پالیسی دفاعی سے تبدیل کرکے ‘‘مکمل طور پر جارحانہ’’ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔امن مذاکرات کی پیش رفت اور تیل بردار بحری جہازوں کی سٹراٹیجک آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں رک گئی ہیں۔ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ جنگ میں مصروف فریق اس تنازع کو ختم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع کیا تھا۔ایرانی عہدیدار نے کہا ایرانی اداروں کو آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں کشیدگی بڑھانے کیلئے تیار رہنا چاہیے ، کیونکہ ایران مشکل فیصلوں پر فیصلے کرنے اور کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو تہران امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے بروقت اور انتہائی درست فوجی حملہ کرے گا۔پیر وہ مقررہ دن تھا جس تک ایران اور امریکا سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی تھی۔

اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔17 جون کو دستخط کی گئی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں 60 دن کی مدت مقرر کی گئی تھی، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی تھی۔ اس مدت کے دوران واشنگٹن اور تہران کو ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا تھا جس میں وسیع تر معاملات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل، کو بھی شامل کیا جانا تھا۔تاہم اس مفاہمتی یادداشت میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔تہران کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 5 اسے اس آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالنے کا حق دیتی ہے ، جبکہ واشنگٹن نے اس تشریح کو مسترد کردیا ہے ۔ اس کے بعد دشمنی دوبارہ شروع ہوگئی، جب تہران نے ان بحری جہازوں پر فائرنگ شروع کردی جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ اس آبی گزرگاہ سے غیرمنظور شدہ راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو کہا تھا کہ یہ معاہدہ ‘‘ختم ہوچکا ہے ’’۔ تہران بارہا واشنگٹن پر اپنے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے ۔ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ‘‘ایران کی جانب سے مقرر کی گئی چند ہفتوں کی مختصر مدت کے اندر معاہدے کی تمام شقوں پر امریکا کو عمل درآمد کرنا ہوگا۔ یہ امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پیشگی شرط ہے ۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ ثالث تہران کی مقرر کردہ آخری مدت سے واشنگٹن اور خطے کے ممالک کو آگاہ کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، عمان کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں، بعض ممالک مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں،انہوں نے کہا مفاہمتی یادداشت میں نام نہاد 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی شرط شامل نہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران امریکا کے ساتھ وقار، خود اعتمادی اور طاقت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت تک پہنچا، مفاہمتی یادداشت طے کرتے ہوئے سابق سپریم لیدڑ علی خامنہ ای کے وضع کردہ اصولوں کومدنظررکھا تھا۔انہوں نے کہاکہ ایران نے امریکاکے ساتھ حالیہ معاہدے کو طاقت کے ساتھ آگے بڑھایا، دشمنوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا، مفاہمتی یادداشت ماہرین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد تیار کی گئی تھی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی نائب بریگیڈیئر جنرل یداللّٰہ جوانی نے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے ، اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا تو ہی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی، آبنائے ہرمز کے انتظامات کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتِ حال پر واپس نہیں جائیں گے۔

امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے لینے میں کامیاب نہیں ہوئے ،آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت جنگ کے حتمی خاتمے اور اس کے بعد کی صورتِ حال کے لیے ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز پر نہ ختم ہونے والے بے بنیاد دعوئوں کے بجائے اپنی سلامتی پر توجہ دیں تاکہ انہیں فرار کیلئے کسی ٹرک میں نہ چُھپنا پڑے ۔ادھر ایرانی ڈرونز نے عراقی کردستان کے وزیراعظم مسرور بارزانی کے ذاتی دفتر اور خطے کے انٹیلی جنس چیف کے گھر کو نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزیراعظم مسرور بارزانی نے حملے کو خطرناک کشیدگی اور کردستان کی سلامتی و استحکام کیلئے براہ راست خطرہ قرار دیا۔ یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں المخا کے ساحل کے قریب سعودی عرب کے ایک فوجی جہاز اور اس کے ہمراہ 4 کشتیوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔بین الاقوامی منڈی میں پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا تاہم کمی معمولی رہی، امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کے ستمبر میں ترسیل کیلئے معاہدے 0.62 ڈالر کی کمی سے 81.78 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کروڈ کے اکتوبر کیلئے معاہدے 0.17 ڈالر کی کمی سے 88.35 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...