قومی اسمبلی :وزرا غائب ،اپوزیشن کا احتجاج ،کورم بھی نامکمل ،اجلاس ملتوی کرنا پڑا

قومی  اسمبلی :وزرا  غائب ،اپوزیشن  کا  احتجاج ،کورم  بھی  نامکمل ،اجلاس  ملتوی  کرنا  پڑا

ایوان پر عوام کے کروڑوں خرچ ہوتے ، اس وقت تک بائیکاٹ کرینگے جب تک وزراء کی دو لائنیں مکمل نہیں ہوتیں، عامرڈوگر پیپلز پارٹی الزام لگانے سے پہلے ایوان کی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا کرے ، میں غلط ہوں تو استعفیٰ دونگا، ورنہ یہ دیں:طارق فضل

اسلام آباد(نامہ نگار،سٹاف رپورٹر، آن لائن)قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے وزراء کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی کردی، گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک ملتوی کردی گئی۔وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے متعلقہ وزیر ڈاکٹر طارق فضل ایوان میں موجود نہیں، حکومتی وزراء کی ایوان کی کارروائی چلانے میں دلچسپی سب کے سامنے ہے ۔ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ اس ایوان پر عوام کے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، وہ اس وقت تک بائیکاٹ کریں گے جب تک وزراء کی دو لائنیں مکمل نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بائیکاٹ بھی کر رہا ہوں اور کورم کی نشاندہی بھی کر رہا ہوں۔ملک عامر ڈوگر کی تقریر کے دوران ڈاکٹر طارق فضل ایوان میں آگئے جس پر انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ خالی کرسیوں کی ویڈیو بناتا، طارق فضل آگئے ہیں۔’’کورم کی نشاندہی کے بعد پی ٹی آئی ارکان ایوان سے باہر چلے گئے ، گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا ، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک ملتوی کردی۔

علاوہ ازیں اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا اگر میں غلط ہوں تو استعفیٰ دوں گا ورنہ یہ استعفیٰ دیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے الزام لگانے سے پہلے ایوان کی کارروائی کا ریکارڈ چیک کرلیا کریں۔ صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کے بحری قزاقوں کے قبضے کا معاملہ کل بھی زیر بحث آیا تھا، اگر میں غلط ہوں تو استعفیٰ دے دوں گا ورنہ یہ استعفیٰ دیں۔طارق فضل نے مزید کہا کہ صومالیہ میں 10پاکستانی بحری قزاقوں کے قبضے میں ہیں، صومالیہ سے ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جبوتی اور لندن سفارتخانے کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دفتر خارجہ معاملے کو متحرک انداذ میں دیکھ رہا ہے ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے یہ بھی کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہو، ہم ہوا میں کوئی بات نہیں کرتے ، فارن آفس کے ذریعے ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بحری جہاز اس ایریا میں ہے ، جہاں صومالی حکومت کی عمل داری نہیں، پلاو نامی ملک بھی اس جہاز کو اون نہیں کر رہا۔طارق فضل نے کہا کہ صومالیہ کے قزاقوں نے 3 ملین ڈالر کا تاوان مانگا ہوا ہے ، تاوان دے دیں تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے ، اس جہاز کے بعد 4 اور جہاز بھی اغوا ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2025 سمیت 4مختلف رپورٹس اور ٹیکنالوجی و مینجمنٹ سائنسز ترمیمی بل 2026 قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے کر دی گئیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...