فیلڈ مارشل کا دورہ ایران انتہائی نتیجہ خیز : مثبت اثرات جلد سامنے آئیں گے: ایرانی حکام
ایران عمان کا ہرمز میں عارضی راہداری کے قیام،بارودی سرنگیں ہٹانے پر اتفاق،امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ناکہ بندی، پابندیاں ختم کرنیکی پیشکش تہران فوج کے بڑے حصے کو تنخواہیں نہیں دے رہا:ٹرمپ،ایران سے تعاون میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے :چین،عمان کے قریب ٹینکر پرحملہ، تیل مزید سستا
اسلام آباد، تہران، واشنگٹن(خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کو نتیجہ خیز اور سود مند قرار دے دیا۔ ایرانی صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ترجمان سید مہدی طباطبائی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کے دورے کے مثبت اثرات جلد ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے ۔ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے بھی پاکستانی اعلیٰ حکام کی ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو مثبت اور تعمیری قرار دیااور کہا ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ان کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی،ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا ہماری گفتگو کا محور ایران اور امریکا کے درمیان تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آئندہ کا لائحۂ عمل تھا،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بحالی کیلئے دونوں جانب سے درکار اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جو تنازع کے جامع حل کی جانب پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔محسن نقوی نے کہا ایران کے صدر نے کھل کر اپنی حکومت کا مؤقف اور خدشات ہمارے سامنے رکھے ، جبکہ متعلقہ امور پر ہمارے درمیان تعمیری اور مفید گفتگو ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات کے دوران اہم پیش رفت ہوئی اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مزید مثبت اقدامات کی راہ ہموار کرے گی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو گی۔ایرانی پارلیمان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ عباس گلرو نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا کا ایک پیغام پہنچایا،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی مقصد رکے ہوئے سیاسی عمل کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی عہدیدار نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے ساتھ امریکا کی جانب سے کوئی دھمکی آمیز یا اس نوعیت کا کوئی پیغام نہیں لائے تھے ؛ بلکہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور امریکی فریق تک ایران کی شرائط و موقف پہنچانے کے خواہاں تھے ۔انہوں نے مزید کہا امریکا کی اسلام آباد میمورنڈم (معاہدے ) کی طرف واپسی اور اس کی شقوں پر عمل درآمد جن میں آرٹیکل 5 یعنی آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی انتظامات شامل ہیں،ایران کی شرائط میں سے ہیں۔ اس معاملے کا اعلان پاکستانیوں کے ذریعے کیا گیا تھا اور پاکستانی فریق انہیں امریکی فریق تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک پاکستانی حکومتی ذریعے نے بتایا کہ پیر کو ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے دوران ایران نے عمومی طور پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم اس نے امریکی پابندیوں پر تشویش بھی ظاہر کی،عہدیدار نے کہاپاکستان نے انہیں بتایا کہ امریکا ان فیصلوں کو مذاکرات کے نئے دور سے پہلے یا مذاکرات کے دوران واپس لے لے گا۔ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ امریکا نے ایران کو پیشکش کی ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے حملے روکنے کے بدلے اقتصادی ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔ ذریعے کے مطابق عاصم منیر نے محسن رضائی سے کہا کہ طے شدہ مفاہمت پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے ذمہ دار واشنگٹن اور تہران دونوں ہیں۔ادھر عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایران میں اپنے ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے کے ایک فریم ورک اور اس آبی گزرگاہ میں موجود بارودی سرنگیں صاف کرنے کے مشترکہ منصوبے پر اتفاق کیا گیا ہے ،عمان کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرحلہ وار ایک ایسے فریم ورک پر تبادلۂ خیال کیا جو آئندہ پیش رفت کے لیے ایک عملی اور قابلِ نفاذ بنیاد فراہم کر سکتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی حکومت ایک طرف فوج کے بڑے حصے کو تنخواہیں ادا نہیں کررہی۔
جبکہ دوسری جانب مظاہرین کو اس وقت بھی قتل کیا جارہا ہے جب وہ احتجاج نہیں کررہے ، امریکی صدر نے صورتحال کو انتہائی سنگین انسانی بحران قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کی اطلاع دی ہے ، ایران کو آگاہ کر دیا کہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے والے ایرانی جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنائیں گے ۔انہوں نے کہا خلائی فوج کے ذریعے ہم آبنائے ہرمز کے ایک ایک حصے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، جوہری تنصیبات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے جو پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہیں۔امریکی صدر نے کینیڈا کو نامعقول ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کئی دہائیوں سے امریکا کو لوٹتا آ رہا ہے ، ہمارے کسانوں پر 400 فیصد سے زائد محصولات عائد کرتے رہے ، امریکا کی بہت سی بہترین کمپنیوں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کر دیا،10 سال تک انہوں نے گلف سٹریم طیاروں کی منظوری نہیں دی،کینیڈا خود کو خصوصی مراعات کا حق دار سمجھتا ہے ، وہ امریکا کی کوئی ریاست نہیں، انہیں یہ حق حاصل نہیں رہے گا۔امریکی محکمہ خزانہ نے 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس فہرست میں چین کے ان مالیاتی اداروں میں سے کسی کو شامل نہیں کیا گیا جن پر ایران کی تیل کی تجارت میں سہولت کاری کا شبہ ہے ۔چین نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ اس کا تعاون بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت یا رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔
امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد تہران میں پٹرول پمپس پر شہریوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے اور عوامی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے ، جس سے دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہونے کا امکان ہے ۔ ایرانی وزیرِ اقتصادی امور علی مدنی زادہ نے کہا کہ ایران جواب دینے کیلئے تیار ہے ،دشمنوں کو کسی حملے کا انتظار کرنا چاہیے ،انہوں نے کہا نہ چین اور نہ روس نے امریکی اقدامات کو قبول کیا ہے اور پیش گوئی کی کہ دوسرے ممالک بھی ان پابندیوں کی مزاحمت کریں گے ۔ایران نے جن 45 جہازں کو بلیک لسٹ کیا ہے ان میں سے کم از کم 14 پہلے ہی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز اور خلیج کے اطراف بحری جہازوں سے متعلق 68 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں کم از کم 20 بحری کارکن یا بندرگاہی اہلکار ہلاک، 35 زخمی اور ایک لاپتا ہوا۔ گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آکر متاثر اور ناکارہ ہوگیا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز گر گئیں کیونکہ تاجروں نے نئی پابندیوں کے اثرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کی اطلاعات سے منڈیوں کو سہارا ملا۔ برینٹ خام تیل 2.8 فیصد کمی کے ساتھ 88.00 فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 3.0 فیصد کمی سے 82.45 فی بیرل ہوگیا۔ امریکی اور یورپی سٹاک مارکیٹوں میں بھی مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی ورٹیکساکے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، پیر کو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو جنگ سے قبل روزانہ 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments