توہین عدالت : سپریم کورٹ میں 16 ستمبر کو سماعت

 توہین عدالت : سپریم کورٹ میں 16 ستمبر کو سماعت

عظمیٰ کی جلدسماعت کی استدعامسترد،مرکزی کیس کیساتھ سماعت ہوگی:سپر یم کورٹ سننے والے سن رہے ہیں تو سپریم کورٹ کے حکم پر اب بھی عمل ہو سکتا:گوہر

 اسلام آباد (دنیا نیوز)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے پر عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست 16ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی ہے ،قبل ازیں رجسٹرار سپریم کورٹ نے توہین کے مرتکب افراد کو الزامات کی فہرست نہ بھیجنے کا اعتراض لگایا تھا، تحریک انصاف کی جانب سے اعتراضات دور کر دئیے گئے ، رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو نمبر بھی الاٹ کر دیا ہے ، عظمیٰ خان کی درخواست کو 8/2026 نمبر لگایا گیا ہے ،اس کے بعد عظمیٰ خان نے درخواست کی جلد سماعت کیلئے درخواست دائر کی اور مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی صحت خراب ہو رہی ہے ، جلد سماعت کا معاملہ بانی کی صحت اور زندگی سے جڑا ہے ، حکومت نے عدالتی فیصلہ کی حکم عدولی کی، اگر کوئی وضاحت درکار تھی تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرتے ،درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدالتی فیصلہ سے انحراف نہیں کیا جا سکتا تھا، توہین عدالت کی درخواست رواں ہفتہ سماعت کیلئے مقرر کی جائے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے عظمیٰ خان کی جلد سماعت کی درخواست مسترد کردی۔

عدالت نے قرار دیا کہ توہین عدالت کی درخواست کو مرکزی مقدمے کے ساتھ ہی سنا جائے گا،عدالتی حکم کے نامے میں لکھا گیا کہ مرکزی مقدمہ 16 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر ہے ، عدالتی پالیسی کے تحت کسی مقدمے کو مقررہ تاریخ سے پہلے سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا جا سکتا ۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا پلان آخری لمحے میں تبدیل ہوا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کافی آگے جا چکے تھے ،بیرسٹر گوہر نے کہاہماری کوششوں پر پانی ڈالا گیا، اگر بانی کا شفا ہسپتال میں علاج ہو جاتا تو بہت اچھا ہوجاتا، میں مایوس نہیں ہوں، کوششیں دوبارہ کروں گا، رابطے نہیں چھوڑا کرتے ،انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست اور بیان بازی نہیں ہونی چاہئے ، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا،مزید کہا کہ پمز میں بھی وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا، سپریم کورٹ کے حکم پراب بھی عمل ہو سکتا ہے ، اگر سننے والے سن رہے ہیں تو عمل کریں،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی،بانی پی ٹی آئی کی ایک بہن نے بات ضرور کی جس میں بتایا کہ انہیں پمز لے جایا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...