بجلی چوری ، غیر علانیہ لوڈشیڈنگ، ارکان قومی اسمبلی کا واپڈا پالیسی پر بحث کا مطالبہ

 بجلی چوری ، غیر علانیہ لوڈشیڈنگ، ارکان قومی اسمبلی کا واپڈا پالیسی پر بحث کا مطالبہ

ایک گھر کی بجلی چوری پر گاؤں یا علاقے کی بجلی بند کرنے کی پالیسی درست نہیں ،طریقہ کار تبدیل کیا جائے :لیگی رکن چینی کی برآمد ، درآمد سے 300ار ب کا ڈاکا ، وزیراعظم سسٹم کولیپس ہونے کے بیان کی وضاحت کریں :آغا رفیع اللہ

اسلام آباد (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر، اے پی پی ) قومی اسمبلی میں ارکان نے ملک کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری کے خلاف اختیار کی جانے والی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلے کے جامع اور پائیدار حل، عوام کو ریلیف دینے اور واپڈا کی پالیسی پر ایوان میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ،ارکان نے کے الیکٹرک کی جانب سے کئی کئی روز بجلی کی فراہمی معطل رہنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ،منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرصدارت ہوا ، نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ (ن) کے رکن سعد وسیم نے کہا کہ ان کے حلقے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام شدید تکلیف میں ہیں۔ واپڈا کی پالیسیوں سے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں، کسی ایک گھر کی بجلی چوری پر پورے گاؤں یا علاقے کی بجلی بند کرنا درست نہیں، طریقہ کار تبدیل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چور کے خلاف کارروائی کے بجائے پورے علاقے کی بجلی بند کردی جاتی ہے ، واپڈا کی پالیسی پر ایوان میں بحث کرائی جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے ۔ انہوں نے معاملے پر چیئر کی رولنگ کا بھی مطالبہ کیا۔پیپلزپارٹی کے رکن سید آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ان کے حلقے میں گزشتہ تین روز سے بجلی بند ہے۔

انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ کابینہ کے ایک وزیر کی جانب سے سسٹم کولیپس ہونے کے بیان کی وضاحت کی جائے ، دوسرا صوبے بنانے کی بھی باتیں ہورہی اسی دوران ایم کیوایم کے رکن اسمبلی ان کے آگے والی نشست پر کھڑے ہوئے جس پر ان کی تلخ کلامی ہوگئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ آغا رفیع اللہ نے کہاکہ تم ہوتے کون ہو میری بات پر بولنے والے تمہاری اوقات کیا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا اور کہا جب تک آپ کا بلڈ پریشر نارمل نہ ہوجائے تب تک بولنے کا موقع نہیں دونگا ، آغا رفیع اللہ کو جب دوبارہ مائیک دیا گیا تو انہوں نے چینی کی برآمد اور بعد ازاں درآمد سے متعلق حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے چینی برآمد کی گئی جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، اب درآمد کے فیصلے کیے جارہے ہیں ،اب چینی کی درآمد کے حوالہ سے فیصلے ہورہے ہیں، یہ 300ار ب روپے کا ڈاکا ہے اس کی مکمل تحقیقات ہونی چا ہئے اورذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ،جے یو آئی (ف) کی رکن شاہدہ اختر علی نے بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس عذاب سے کب چھٹکارا ملے گا۔جے یو آئی (ف) کی عالیہ کامران نے کہا کہ پرائیویٹ ممبر ڈے قانون سازی کے حوالے سے اہم ہوتا ہے ، اسے نکتہ ہائے اعتراض کے لئے مختص کرنے سے قبل اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جانا چا ہئے تھا اور اس حوالے سے ایوان سے تحریک کی منظوری بھی لی جانی چا ہئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...