فیلڈ مارشل کا دورہ ایران امریکی نمائندگی نہیں، سفارتی کوششوں کا حصہ تھا : دفتر خارجہ

فیلڈ مارشل کا دورہ ایران امریکی نمائندگی نہیں، سفارتی کوششوں کا حصہ تھا : دفتر خارجہ

دعوے گمراہ کن ، علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل صرف مذاکرات ،سفارتکاری سے ہی ممکن، کو ششیں جاری رکھیں گے ایران سے عالمی قوانین کے مطابق تجارت جاری رکھنے کا اعلان، پاکستان آئندہ سال ایس سی او سربراہی سنبھالے گا ، بریفنگ

اسلام آباد (وقائع نگار ،دنیا نیوز )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ،فوجی تعطل ختم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں تھا۔ ایسے دعوے گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں ، پاکستان سمجھتا ہے کہ علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے ،ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے تہران میں ایرانی قیادت سے علاقائی کشیدگی کے خاتمے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا تھا جبکہ انہوں نے مختلف برادر ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی مسلسل رابطے کئے۔ اسحاق ڈار نے مصری ،ترک اور کویتی وز رائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کئے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان خلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے پرامن حل، امن مذاکرات کی بحالی اور تنازع کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کے تہران کے متوقع دورے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر سمیت برادر ممالک کی جانب سے امن، مذاکرات اور سیاسی تصفیے کے لئے مثبت سفارتی رابطوں کا خیرمقدم کرے گا ،پاکستان اور قطر برجن سٹاک میں جاری مشترکہ اعلا میہ پر عملدرآمد کے کیلئے بھی رابطے میں ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی ایک سال کے لئے سربراہی سنبھالے گا۔ ایس سی او سربراہانِ مملکت کونسل کا اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر 2026ء تک بشکیک میں ہوگا، جس کے بعد پاکستان چیئرمین شپ سنبھالے گا۔

ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن میں ہیں، جہاں پاکستان، برطانیہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، بحری سلامتی، دولتِ مشترکہ اور برطانوی پارلیمنٹیرینز و پاکستانی کمیونٹی سے روابط زیر بحث ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکر ٹر ی جنرل سے ملاقات میں صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی بحری کارکنوں کی محفوظ رہائی کے لئے فوری اور مؤثر ادارہ جاتی کردار ادا کرنے پر زور دیا ، نائب وزیراعظم نے پاکستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات، جموں و کشمیر تنازع، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر گفتگو ہوئی ، ترجمان نے بتایا کہ شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے 19 اور 20 اگست کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، اسحاق ڈار اور شامی وزیر خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور ادارہ جاتی روابط و تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو ہفتوں میں متعدد عرب اسلامی ممالک کے ساتھ مشترکہ بیانات میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی۔

16 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ کے لئے امریکی جامع منصوبے کے روڈ میپ اور فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کا مطالبہ کیا ،افغانستان سے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان ریاستی سطح پر بات چیت کے لئے تیار ہے ، تاہم افغان عبوری حکومت کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق شواہد دینا ہوں گے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے ، افغان طالبان کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال نہ ہو ، بھارتی سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف کے کرانا ہلز سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ دعوے خود متضاد ہیں ،واقعات کے کئی ماہ بعد سامنے آئے ، پاکستان کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے بھارتی فوجی اہداف کو مؤثر طور پر ناکام بنایا جبکہ آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے پاکستان نے تنازع کے مختلف محاذوں پر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور ایران کے ساتھ موجود دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے مطابق تجارت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے فروغ دینے کا خواہاں ہے ، پاکستان ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کا پابند نہیں ،بنگلہ دیش کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت سے متعلق ترجمان نے کہا کہ یہ امن کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے دفاعی فریم ورک ہے اور ان ممالک کے لئے کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کے عزم کا اشتراک کرتے ہیں ،ترجمان نے بتایا کہ 13 اگست کو پیرس میں پاکستان اور فرانس کے درمیان کثیرالجہتی امور پر مشاورت ہوئی، جس میں اقوام متحدہ میں اصلاحات، پائیدار ترقی کے اہداف، ترقیاتی مالی معاونت، امن مشنز اور انسداد دہشتگردی سمیت مختلف امور زیر بحث آئے ،ترجمان دفتر خارجہ نے نیپال میں حالیہ سیلاب سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم پاکستان نے نیپالی عوام سے تعزیت کی ہے ، پاکستانی قوم اس مشکل گھڑی میں نیپال کے عوام کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...