پمز : نومولود بچوں کی وارڈ کھنڈر میں تبدیل، رائفلوں، لاٹھیوں سے مسلح گارڈز
گھبراہٹ اتنی کہ فوٹو گرافروں اور ویڈیو صحافیوں کو ہسپتال میں داخلے سے روک دیا ، عملہ کالک مٹانے میں مصروف جب آگ بھڑکی تو سب کچھ چند منٹوں میں ہو گیا، لوگ ٹھیک کہتے ہیں، ہم اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگے :نرس ’’وہ کہتے ہیں کہ اب یہاں کوئی نرسری نہیں ،لکھ کر دیں بچہ مرا تو ذمہ دار نہیں ہوں گے ‘‘ایک باپ کی فریاد
اسلام آباد (اے ایف پی) مڑی تڑی چھت ، آگ و دھویں سے سیاہ در و دیوار اور گرنے کے قریب چھت سے چھنتی ہوئی سورج کی کرنیں ہی اس نوزائیدہ بچوں کے وارڈ کی باقیات رہ گئی تھیں جہاں بدھ کے روز ہولناک آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہو گئے ۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی نرسری کا دروازہ دھماکے سے اکھڑ چکا تھا اور یہ کمرہ اب دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی روشن راہداری کے آخری سرے پر ایک سیاہ کھنڈر بن چکا ہے ۔ وارڈ کے اطراف دھوئیں کی تیز بو اب بھی محسوس کی جا سکتی تھی۔ حکام تحقیقات کے لیے وہاں آ جا رہے تھے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے نوٹس لے رہے تھے ۔ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آگ کیسے لگی اور اس قدر تیزی سے کیوں پھیلی۔
وارڈ کے باہر ہسپتال کا عملہ فرش دھو کر صاف کر رہا تھا جبکہ کچھ اہلکار دیواروں سے کالک اور ملبے کے نشانات مٹا رہے تھے ۔محض چند میٹر کے فاصلے پر ہسپتال میں زندگی معمول پر آ رہی تھی جہاں مریضوں کو وارڈز میں داخل کیا جا رہا تھا جبکہ ڈاکٹر اور نرسیں سہولت کی بھول بھلیوں جیسی راہداریوں میں مصروفِ عمل تھیں۔ لیکن کشیدگی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی؛ پولیس اور سکیورٹی اہلکار وارڈ کے اندر گشت کر رہے تھے - جو ماؤں اور بچوں کے لیے ایک خصوصی سہولت ہے -جبکہ اسالٹ رائفلیں اور لمبی لاٹھیاں اٹھائے ہوئے گارڈز عمارت کے مدخل اور احاطے کے باہر کھڑے تھے ۔اس بڑھتی ہوئی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ سکیورٹی گارڈز نے فوٹوگرافروں اور ویڈیو صحافیوں کو ہسپتال میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ایک نرس نے جو واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہی تھی اور جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، اے ایف پی کو بتایا کہ ہسپتال آگ لگنے کے حالات کی تحقیقات کر رہا ہے اور "نہیں چاہتا کہ اس کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے ۔نرس نے کہا "جب آگ بھڑکی تو سب کچھ چند منٹوں میں ہو گیا۔ لوگ ٹھیک کہتے ہیں، ہم اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگے کیونکہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ آگ ہر طرف پھیل چکی تھی اور ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔"وفاقی حکومت پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر چکی ہے ، جبکہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تاہم حکام نے عوامی تعطیل کے دن ہنگامی خدمات کے رسپانس ٹائم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند منٹوں میں پہنچ گئے تھے جبکہ ہسپتال میں موجود خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پہنچنے میں گھنٹوں لگے ۔ داخلی دروازے کے قریب زمین پر ایک باپ بیٹھا تھا جس نے اپنے نوزائیدہ بیٹے کو کھو دیا تھا اور اب اسے یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں اس کی بیوی بھی دم نہ توڑ دے ۔
ادریس خان نے روتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا میں نے اپنا بچہ کھو دیا لیکن میں آج یہاں اس لیے ہوں کیونکہ میری بیوی کی حالت تشویشناک ہے ۔ کل (آگ کی وجہ سے ) آپریشن کے فوراً بعد اسے ہسپتال چھوڑنا پڑا تھا لیکن اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ قریب ہی، آگ کی وجہ سے متعلق پاکستان کی پارلیمانی صحت کمیٹی کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں اس وقت خلل پڑا جب ایک باپ نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی۔ اس کی بیوی کا اس وارڈ میں سیزیرین (بڑا آپریشن) ہونا تھا لیکن اسے کہا گیا کہ آپریشن کے بعد اسے اپنے بچے کو لے کر جانا ہوگا۔اس نے کہا آپ کو فوت ہو جانے والے بچوں کی فکر ہے یہ بہت اچھی بات ہے لیکن ان بچوں کا کیا کرنا ہے جو زندہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہاں کوئی نرسری نہیں۔ وہ مجھ سے ایک ایسے کاغذ پر دستخط کروانا چاہتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ اگر نرسری نہ ہونے کی وجہ سے بچہ مر جاتا ہے تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments