سرکاری زمینیں ، عمارتیں ، اثاثے کمرشلائز کرنے کیلئے نئی اتھارٹی بنانے کا فیصلہ
اثاثہ مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2026متعلقہ کمیٹی کے سپرد ،دو ماہ میں رپورٹ دینے کی ہدایت نئی اتھارٹی کو سرکاری اثاثوں کے معاہدے کرنے سمیت وسیع اختیارات حاصل ہوں گے :متن
لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب حکومت نے صوبائی حکومت اور ماتحت سرکاری اداروں کے اثاثوں کو یکجا کرکے ان کے مؤثر استعمال ، کمرشلائزیشن اور سرمایہ کاری کیلئے اثاثہ مینجمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے اثاثہ مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2026 پنجاب اسمبلی کے 2روز قبل منعقدہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھاجسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ آرڈیننس کی گورنر پنجاب پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔آرڈیننس کے متن کے مطابق حکومت کسی بھی سرکاری اثاثے کو اس کا ٹائٹل منتقل کیے بغیر بھی اتھارٹی کے حوالے کرسکے گی۔ اتھارٹی کو منتقل کیے گئے اثاثوں کو فروخت، لیز، کرائے پر دینے ، ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کرنے یا کسی دوسرے طریقے سے استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
جنگلات، وائلڈ لائف، ماحولیات، اوقاف اور بلدیاتی قوانین کے تحت آنے والے اثاثے بھی مخصوص شرائط کے تحت اتھارٹی کو منتقل کیے جاسکیں گے ۔ نئی اتھارٹی کو سرکاری اثاثوں کی نگرانی، معاہدے کرنے اور سرمایہ کاری کے انتظامات کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے ، اتھارٹی غیر استعمال شدہ اور کم منافع حاصل کرنے والی سرکاری اراضی کی نشاندہی کرے گی اور سرکاری اراضیات کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے تجاویز تیار کرے گی۔ متعلقہ کمیٹی دو ماہ میں آرڈیننس سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی جس کے بعد آرڈیننس پنجاب اسمبلی سے منظوری کے مرحلے میں جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments