2826ا یکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واگزارکرائی ، وزارت ریلوے

  2826ا یکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واگزارکرائی ، وزارت ریلوے

439لوکوموٹیوز ، 267فعال، 172غیر فعال ، 16آئندہ سال دستیاب ہونگے محکمے میں سکیل 1تا 21کی 22ہزار 546آسامیاں خالی ، تفصیلات سینیٹ میں پیش

 اسلام آباد (سید قیصر شاہ) وزارت ریلوے نے سینیٹ کو بتایا کہ ریلوے کی 2826ا یکڑ اراضی مافیا سے واگزارکرائی جبکہ ریلویز میں بنیادی سکیل 1تا 21تک کی مجموعی طور پر 22ہزار 546 آسامیاں خالی ہیں، ریلوے کی اراضی پر تجاوزات قائم کرنے وا لوں کے خلاف 174 ایف آئی آرز درج کیں ، چاروں صوبوں سے مجموعی طور پر 2,826.09 ایکڑ اراضی واگزار کرائی ، وزارت ریلوے نے سینیٹ میں تفصیلات پیش کر دیں۔تحریری جواب کے مطابق سندھ میں 7,245 بلوچستان میں 1,296 پنجاب میں 12,165 اور خیبر پختونخوا میں 1,840 آسامیاں خالی ہیں۔وزارت ریلوے نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کے پاس مجموعی طور پر 439 لوکوموٹیوز کا بیڑا موجود ہے ، جن میں 267 فعال اور 172 غیر فعال ہیں ، غیر فعال اے جی ای 30 کے 16 لوکوموٹیوز فروری 2027 تک دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

دستاویز کے مطابق کراچی تا روہڑی 480 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے منصوبے کے تحت ٹریک کے دونوں جانب حفاظتی باڑ لگانے کی تجویز دی گئی ہے ،بعض مقامات پر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک مقرر کرنے کے باعث موجودہ حدود سے باہر اضافی زمین درکار ہوسکتی ہے ،ریلوے ٹریک کے دونوں جانب رائٹ آف وے کی چوڑائی مقام اور ساخت کے لحاظ سے مختلف ہوگی ، عمومی طور پر مطلوبہ زمین پاکستان ریلوے کی موجودہ حدود میں موجود ہے ، تاہم موڑ کم کرنے اور 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ڈیزائن رفتار حاصل کرنے کے لئے بعض مقامات پر اضافی اراضی درکار ہوگی،کراچی تا روہڑی سیکشن ایم ایل ون منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے ، جس کی ابتدائی تخمینہ لاگت 2 ارب ڈالر ہے ، تاہم حتمی لاگت کا تعین انجینئرنگ ڈیزائن کی تکمیل اور حتمی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...