سندھ طاس معاہدہ علاقائی سلامتی کیلئے انتہائی اہم:اسحاق ڈار

سندھ طاس معاہدہ علاقائی سلامتی کیلئے انتہائی اہم:اسحاق ڈار

دورہ برطانیہ کامیاب رہا، پاکستان سفارتی طور پر پہلے سے کہیں بہتر مقام پر ہے سعودی عرب، ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، اہم سفارتی معاملات پر گفتگو

اسلام آباد، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ قانونی فریم ورک ہے ، جو علاقائی  سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے ۔ پاکستانی سفارتخانہ واشنگٹن میں سندھ طاس معاہدے پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم عالمی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے ، معاہدے کے تحت دریائے راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بھارت بغیر پابندی کے استعمال کرسکتا ہے ، اسی طرح پاکستان دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی بغیر کسی پابندی کے استعمال کرسکتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے معاملے پر انڈس کمیشن بھی فعال ہے اور پانی کے تنازع کے حل کیلئے معاہدے میں میکنزم موجود ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا بھارت نے جان بوجھ کر سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا، پاکستان کیلئے آبی تحفظ معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے جڑا ہے ۔ پاکستان اختلافات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کا حامی جبکہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔

دریں اثنا لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا دورہ برطانیہ کامیاب رہا، دورے کے اہم ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بات چیت ہوئی، پاکستان سفارتی طور پر پہلے سے کہیں بہتر مقام پر ہے ۔انہوں نے کہا بحری کارکنوں کی رہائی کیلئے عالمی اصولوں کے تحت حکمت عملی اپنائی گئی۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور حاقان فیدان سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی بدلتی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور آئندہ ہونے والے آر فور اجلاس سمیت اہم سفارتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو میں موریطانیہ کے اسماعیل ولد شیخ احمد کے اتفاق رائے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا نیا سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد دی۔ بعد ازاں نائب وزیراعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی صورتحال، مشترکہ دلچسپی کے امور اور آئندہ سفارتی روابط پر تبادلہ خیال کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...