سانحہ پمز، 8 افسر معطل : وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش، ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت ذمہ داروں کیخلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت، بچے کو بچانے پر نرس کیلئے 1 کروڑ انعام

سانحہ پمز، 8 افسر معطل : وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش، ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت ذمہ داروں کیخلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت، بچے کو بچانے پر نرس کیلئے 1 کروڑ انعام

عمران سکندر، مطاہر شاہ ، اویس شاہ، سعدیہ ریاض، ڈاکٹر نغم، نوشیلہ امجد، عثمان، عبدالرحمان معطل ہونیوالوں میں شامل،سکیورٹی کمپنی کیخلاف بھی کارروائی کی منظوری، ڈاکٹر سلمان قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر نرس رضیہ کیلئے ستارہ خدمت،وارڈ میں موجود نرس اور خاتون گارڈ او ایس ڈی ، رپورٹ ویب سائٹ پر جاری ہوگی،مثالی سزا دلوائیں گے :شہباز شریف،میرے استعفے کا وزیراعظم سے پوچھیں:مصطفی کمال،چیک تقسیم

اسلام آباد( نیوز رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کو پمز میں آتشزدگی اور 14 بچوں کی اموات کے سانحے کی رپورٹ پیش کردی گئی، وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8افسروں کو معطل کرنے کاحکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کردی، جبکہ بچے کو بچانے پر نرس کیلئے ستارۂ خدمت اور 1 کروڑ انعام کی منظوری دیدی گئی۔ شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی۔

وزیراعظم نے رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے 8 ذمہ دار افراد کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت بلاامتیاز کارروائی کی منظوری دیدی۔معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ،شعبہ نوزائیدہ امراض کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔

وزیراعظم نے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔اجلاس میں وزیراعظم نے سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی، الزام درست ثابت ہوا تو کمپنی کے خلاف معاہدے کی شرائط کے تحت کارروائی کی جائے گی اور وزارتِ داخلہ سے کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔عہدوں سے ہٹائے گئے افسروں کی جگہ نئے افراد کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت بھی کی گئی۔

وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کو ستارۂ خدمت اور 1 کروڑ روپے انعام دینے کی منظوری دی جبکہ وارڈ میں موجود چارج نرس نسرین اور خاتون گارڈ ماریہ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی۔تحقیقاتی کمیٹی کی 9 صفحات پر مشتمل عبوری رپورٹ کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تفصیلی ایس او پیز اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی، پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر پایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جب کہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر موجود تھے ، آگ لگنے کے بعد پورا وارڈ تقریباً دو منٹ میں جل گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا، وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جولائی میں پمز نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعے کے باوجود ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، حالانکہ اس واقعہ کی تحقیقات میں دھوئیں کا پتہ لگانے والے آلات، خودکار الارم، ایمرجنسی وارننگ نظام، مشقوں کے ریکارڈ اور آگ کی حفاظت کے معائنے میں کمیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور جامع فائر سیفٹی آڈٹ، دھواں پکڑنے والے آلات، الارم، ایمرجنسی لائٹنگ، واضح انخلا کے راستے اور سالانہ برقی معائنے جیسی سفارشات دی گئی تھیں۔

حیران کن طور پر المناک نرسری فائر سے صرف ایک روز قبل 25 اگست کو وہ سابقہ تحقیقاتی رپورٹ نظرِ ثانی کیلئے واپس بھیجی جا رہی تھی کیونکہ اس میں اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا تھا۔ نیونیٹل وارڈ میں فائر سیفٹی سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے قواعد کی بھی خلاف ورزی پائی گئی۔ اجلاس میں پمز کی خستہ حالی اور بدانتظامی سے متعلق بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی کی مجرمانہ غفلت سے کسی ماں کا لخت جگر جدا نہ ہو۔وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت بھی کی، رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔دریں اثنا وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل اور ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے آتشزدگی سانحے میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، بعد ازاں دونوں وفاقی وزراء نے راولپنڈی جا کر بھی دوسرے متاثرہ خاندان کے گھر جا کر ان سے تعزیت کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں اور جاں بحق ہونے والے بچے واپس نہیں آ سکتے ، تاہم حکومت اور پوری قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ مصطفی کمال نے حکومت کی جانب سے دونوں متاثرہ خاندانوں کو پچاس پچاس لاکھ روپے کے چیک پیش کیے ۔ انہوں نے کہا واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور اس المناک حادثے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر صحت سے ایک مرتبہ پھر صحافی کی جانب سے استعفیٰ دینے سے متعلق سوال کیا گیا،جس پر مصطفی کمال نے کہا کہ وزیر اعظم سے پوچھیں میرے استعفے کا کیا ہوا؟۔طارق فضل نے کہا کہ جن لوگوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ان کا علاج بھی ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...