مس کیرج پردباؤ میں تھی، جعلی الٹرا ساؤنڈ بنوایا،خاتون
الٹرا ساؤنڈ کراتی ڈاکٹر کو نہیں دکھاتی ،پولیس کو بیان ،پیدائش معاملے کا ڈراپ سین صورتحال سے متعلق والد کو لیبر روم میں بتایا، وہ گھبرا کر چلے گئے ، ہسپتال انتظامیہ میڈیا، عوام قیاس آرائیوں سے گریز، تحقیقات مکمل کرنیکاموقع دیا جائے ، ہسپتال اگر خاتون حاملہ نہیں تھی تو اسپتال، ڈاکٹر ،ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی،پولیس
کراچی (این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک)ناظم آباد کے نجی ہسپتال میں نومولود کی گمشدگی کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ خاتون کے 16 فروری 2026ء کو کرائے گئے الٹراساؤنڈ کی رپورٹ کی اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مریضہ کو 13 ہفتوں سے حیض نہیں آئے تھے ، تاہم الٹراساؤنڈ میں رحم کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق پائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اینڈومیٹریئم مرکزی طور پر موجود تھا۔ دائیں اووری بڑی اور پولی سسٹک اووری جیسی پائی گئی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس سے حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ 27 اگست کو ایک مبینہ جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ لے کر ہسپتال آئی، جس پر 8 اگست کی تاریخ درج تھی۔ انتظامیہ کے مطابق رپورٹ پر ڈاکٹر کے مبینہ جعلی دستخط اور اسپتال کا جعلی لوگو موجود تھا۔
ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ مریضہ شدید درد میں تھی، جس کے باعث رپورٹ کی تفصیلات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور فوری طور پر آپریشن شروع کردیا گیا، اس دوران بچہ دانی بہت چھوٹی پائی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال سے متعلق والد کو لیبر روم بلا کر بتایا گیا تاہم وہ گھبرا کر آپریشن روم سے باہر چلے گئے ۔ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کررہی تھی اور کیس ہائپر میچورٹی کی طرف جارہا تھا، تاہم مبینہ جعلی الٹراساؤنڈ کو درست سمجھتے ہوئے اسے چیلنج نہیں کیا گیا، مریضہ کی حالت تشویشناک ہونے پر فوری آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔آپریشن کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔ تمام ریکارڈ میڈیکل بورڈ کو فراہم کردیا گیا ہے اور میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہوجائے گی۔
تمام متعلقہ ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تفتیشی حکام کے حوالے کردی گئی۔ ادھر ہسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 اگست کو ہسپتال میں کیے جانے والے طبی معائنے اور تشخیص کے مطابق متعلقہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔ ہسپتال کے طبی ریکارڈ کے مطابق بھی خاتون کے حمل کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور کسی بچے کی پیدائش نہیں ہوئی۔اس معاملے کی متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ ہسپتال تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ طبی ریکارڈ اور ضروری معلومات حکام کو فراہم کردی گئی ہیں۔اسپتال کے مطابق اداروں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق واضح ہوجائیں گے۔ میڈیا اور عوام سے گزارش ہے قیاس آرائیوں سے گریز اور متعلقہ حکام کو تحقیقات کا عمل مکمل کرنے کا موقع دیں۔
دوسری جانب نجی ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا کہ وہ حاملہ نہیں تھی، جعلی الٹرا ساؤنڈ بنوایا تھا۔پولیس کے مطابق خاتون کی 2024 میں شادی ہوئی اور مس کیرج ہوگیا تھا، جس کے بعد خاتون دباؤ میں تھی اور خود کو حاملہ ظاہر کیا۔ خاتون ہسپتال جاتی، الٹرا ساؤنڈ کراتی لیکن کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھاتی تھی۔پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر اور عملے کی سنگین غفلت ظاہر ہوئی ہے ، ہسپتال میں خاتون کا بغیر ٹیسٹ آپریشن کرنا سنگین غفلت ہے ، فیملی کی درخواست پر مزید کارروائی کی جائے گی۔تفتیشی حکام کے مطابق طبی معائنے اور ایم ایل او رپورٹ میں خاتون کا حاملہ ہونا ثابت نہیں ہوا، خاتون کو آپریشن تھیٹر منتقل کرنے سے قبل ہسپتال عملے نے باقاعدہ طبی معائنہ نہیں کیا۔
ہسپتال عملے نے موبائل فون پر موجود الٹرا ساؤنڈ رپورٹ دیکھی، تحقیقات کے مطابق موبائل فون پر موجود رپورٹ غیرمستند پائی گئی، خاتون کے شوہر کی اسپتال کے خلاف درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، طبی رپورٹس، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر ریکارڈ کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ اس سے قبل پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ ایم ایل او اور سرکاری ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ پیر کو دینے کا کہا ہے ، جبکہ آج سرکاری میڈیکل ٹیم سے رپورٹ دوبارہ طلب کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ سے ڈاکٹر کا مؤقف درست یا غلط ہونے کا تعین ہوسکے گا۔ تحقیقاتی ٹیم نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر خاتون حاملہ نہیں تھی تو اس کا آپریشن کیسے کیا گیا؟ اور آپریشن سے قبل ایسے ٹیسٹ کیوں نہیں کیے گئے جن سے حمل نہ ہونے کا معلوم ہوسکتا تھا۔ ٹیم نے خاتون کے کیے گئے تمام ٹیسٹوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق اگر خاتون حاملہ نہیں تھی تو بھی ہسپتال، ڈاکٹر اور متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments