پانی کو ہتھیار نہیں بنانے دینگے: شہباز شریف، پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئر مین شپ سنبھال

 پانی کو ہتھیار نہیں بنانے دینگے: شہباز شریف، پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئر مین شپ سنبھال

پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پر عزم ،عالمی معاہدوں پر انکی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ،دہشتگردوں کو افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دی جا سکتی: وزیراعظم امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے تو ایران بھی کریگا:پزشکیان، سربراہی اجلاس سے خطاب،شہباز شریف کی شی جن پنگ، پیوٹن، اردوان ودیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

بشکیک(دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی،وزیراعظم شہباز شریف نے ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پر عزم ہے ، عالمی معاہدوں پر ان کے روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے ، پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے ، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے ۔وزیراعظم نے کہا تاریخی اجلاس میں شریک ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن و استحکام کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے ، ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگ میل ہے ۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے ، عالمی منظرنامہ بڑھتی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے ، ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے ، پاکستان تنازعات کے پر امن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کیلئے مؤثر کردار ادا کیا، پاکستان کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی ہے ، عالمی اداروں کو اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا، غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیہ ناقابلِ تصور مصائب کا باعث ہے ، عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرے ، جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے ، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے ، عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عمل ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے ، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، دہشت گردوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او خطے میں 3 ارب سے زائد افراد آباد ہیں، پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے ، علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت ہے ، سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے ، پاکستان علاقائی ریل، سڑک اور توانائی منصوبوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری ہے ، ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اہم قدم ثابت ہوگا، پاکستان غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گا۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی، آئی ٹی، صحت، ثقافت، کھیل کو بھی ترجیح دی جائے گی، ایس سی او میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز دیں گے ۔شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ایس سی او ترقی اور مضبوطی کی نئی منازل طے کرتی رہے گی اور اپنے 3 ارب سے زائد عوام کی زندگیوں میں بامعنی اور مثبت بہتری لائے گی۔پاکستان نے 2026-27کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او)سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھال لی۔ ایس سی او سربراہان مملکت کونسل کے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہوئی،وزیراعظم شہباز شریف نے ایس سی او اجلاس کے اعلامیے پر دستخط کئے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کونسل اجلاس میں شرکت کیلئے مرکزی ہال پہنچے جہاں مرکزی ہال آمد پر کرغزستان کے صدر نے وزیراعظم کا گرمجوشی سے استقبال کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ ہوا۔اجلاس میں شریک رکن ملکوں کے رہنماؤں کا گروپ فوٹو بھی ہوا، وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں میں نمایاں پوزیشن نظر آئی۔ ایس سی او سربراہ اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان کی امن کیلئے کاوشوں کوسراہا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ برادر ملک پاکستان نے امن کیلئے اہم کردار اداکیا جبکہ مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مذاکرات کا بھی اپنی تقریر میں ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن کیلئے اسلام آباد مذاکرات کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔انہوں نے کہا امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی معاہدے پر عمل درآمد فوری طور پر دوبارہ شروع کر دے گا۔انہوں نے کہا ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کے دستخط موجود تھے ، تاہم اس دستاویز سے امریکا کی وابستگی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک برقرار رہی۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے جواب میں ایران نے بھی متناسب ردعمل دیا تھا۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے غیررسمی ملاقاتیں کیں، جن میں اہم علاقائی و عالمی اور دوطرفہ امور پر گفتگو ہوئی، وزیراعظم توجہ کا مرکز بنے رہے ۔وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات ہوئی، ان کی بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو ، ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمن اور قازقستان کے صدقاسم جومارت توکائیف سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔شہبازشریف نے بیلاروس کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی،دونوں رہنماؤں نے تجارت، صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کو ترجیحی شعبوں کے طور پر دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...