پنجاب اسمبلی : 16 سال سے چھوٹے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور
بچوں کے مستقبل کیلئے قانون سازی ناگزیر:سارہ احمد،سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت کیخلاف قرارداد منظور 4مسودات قوانین ،کئی قراردادیں منظور ،قرآن کے شہید اوراق کی شرعی تدفین پرتحریک التوا ، وزیر مذہبی امور کی وضاحت
لاہور (سیاسی نمائندہ، این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اسمبلی نے مفاد عامہ سے متعلق 4 مسودات قوانین اور متعدد قراردادیں منظور کرلیں، ایوان نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے چار منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔رکن اسمبلی سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں وفاقی حکومت سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قانونی پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔ سارہ احمد نے کہا کہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بچوں کو سائبر بُلیئنگ اور آن لائن جنسی استحصال سمیت مختلف خطرات سے دوچار کر رہا ہے ۔ آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکا سمیت متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے قوانین متعارف کراچکے ہیں، پاکستان میں بھی بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے ۔قرآن پاک کے شہید اوراق کی شرعی طریقے سے تدفین کے معاملے پر رکن اسمبلی احسن رضا کی تحریک التوائے کار پر وزیر مذہبی امور و اوقاف چودھری شافع حسین کو ایوان میں طلب کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ قرآن بورڈ میں مختلف مسالک کے علمائے کرام شامل ہیں، مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے قرآن محل میں بوسیدہ اوراق کو خصوصی کیمیکل میں ڈال کر شرعی طریقے سے تلف کیا جاتا ہے ۔پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر ریوولوشن یونیورسٹی فیصل آباد بل 2026، غنی یونیورسٹی شیخوپورہ بل 2026 اور پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن بل 2025 بھی منظور کرلئے گئے ۔ پنجاب حکومت کے سرکاری اور ماتحت اداروں کے اثاثے یکجا کرکے بہتر انداز میں استعمال اور کمرشلائز کرنے کیلئے اثاثہ مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2026 بھی منظور کیا گیا۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے حکومتی رکن احمد اقبال کو پنجاب ویسٹ اینڈ سینی ٹیشن ورکرز، ڈگنیٹی، سیفٹی، سکیورٹی اینڈ ویلفیئر بل 2026 پیش کرنے سے روک دیا۔ حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں مقامی طور پر سولر پینلز اور جدید بیٹریاں بنانے کی صنعت کے فروغ، اقلیتی قیدیوں کو مذہبی عقائد سے متعلق تدریسی کتب اور اساتذہ کی فراہمی، غذائی وسائل کے ضیاع کی روک تھام، ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور نئی معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق قراردادیں بھی منظور کرلی گئیں۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن نرگس فیض نے راولپنڈی میں مون سون بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھروں میں تین تین فٹ پانی جمع ہے ، اگر سارا پیسہ لاہور پر خرچ کرنا ہے تو باقی صوبے کا کوئی والی وارث ہے ؟۔اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے لاہور میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد سوسائٹیاں شہریوں کے پیسے ہضم کرکے بیٹھی ہیں جبکہ شہری پلاٹ کے بارے میں پوچھنے جائیں تو سکیورٹی اہلکار انہیں دھمکاتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ سلطان باجوہ نے بتایا کہ متعلقہ سوسائٹی کے خلاف نیب میں کیس چل رہا ہے ۔ سپیکر نے محکمہ ہاؤسنگ سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمہ یا عدالت سے مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پنجاب اسمبلی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments